صحیح مسلم حدیث ۴۶۸۲ - جہاد میں خواتین کی خدمت

جہاد میں خواتین کی خدمت: پانی پلانا اور زخمیوں کی دوا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۸۲

حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِأُمِّ سُلَيْمٍ وَنِسْوَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ مَعَهُ إِذَا غَزَا فَيَسْقِينَ الْمَاءَ وَيُدَاوِينَ الْجَرْحَى " .

انس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم اور چند انصار کی عورتوں کو جہاد میں اپنے ساتھ رکھتے تھے، وہ پانی پلاتیں اور زخمیوں کی دوا کرتیں۔

صحیح مسلم حدیث ۴۶۸۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ام سلیم رضی اللہ عنہا اور انصار کی چند عورتوں کو غزوہ میں ساتھ رکھتے تھے۔ ان کا کام لڑائی کرنا بیان نہیں ہوا، بلکہ پانی پلانا اور زخمیوں کی دوا کرنا بتایا گیا ہے۔ یہی اس حدیث کا اصل پیغام ہے۔ آج جو لوگ جہاد میں خواتین کی خدمت کی حدیث، زخمیوں کی تیمارداری، یا صحابیات کی خدمت تلاش کرتے ہیں، ان کے لیے یہ روایت بہت واضح ہے۔ اس میں خدمت کو عزت کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ جب حالات سخت ہوں تو پانی پلانا، علاج میں مدد دینا، اور زخمی کا خیال رکھنا بھی دین کے کاموں میں شامل ہو سکتا ہے، بشرطیکہ بات اسی متن کے دائرے میں رکھی جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صحابیات غزوہ میں پانی پلانے اور زخمیوں کی دوا کرنے میں مدد دیتی تھیں۔
  • حدیث میں خواتین کے لیے جنگی لڑائی نہیں، خدمت کا کام بیان ہوا ہے۔
  • زخمی اور ضرورت مند کی مدد ایک سنجیدہ اور مفید کام ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں