صحیح مسلم حدیث ۴۶۸۳ - ابو طلحہؓ کی حفاظت اور صحابیات کی خدمت
غزوہ احد کی حدیث: ابو طلحہؓ کی حفاظت اور پانی پلانے کی خدمت
صحیح مسلم : ۴۶۸۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۸۳
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ عَمْرٍو وَهُوَ أَبُو مَعْمَرٍ الْمِنْقَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ انْهَزَمَ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبُو طَلْحَةَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُجَوِّبٌ عَلَيْهِ بِحَجَفَةٍ ، قَالَ : وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ رَجُلًا رَامِيًا شَدِيدَ النَّزْعِ وَكَسَرَ يَوْمَئِذٍ قَوْسَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، قَالَ : فَكَانَ الرَّجُلُ يَمُرُّ مَعَهُ الْجَعْبَةُ مِنَ النَّبْلِ ، فَيَقُولُ : انْثُرْهَا لِأَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ : وَيُشْرِفُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَى الْقَوْمِ ، فَيَقُولُ أَبُو طَلْحَةَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي لَا تُشْرِفْ لَا يُصِبْكَ سَهْمٌ مِنْ سِهَامِ الْقَوْمِ نَحْرِي دُونَ نَحْرِكَ ، قَالَ : وَلَقَدْ رَأَيْتُ عَائِشَةَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ ، وَأُمَّ سُلَيْمٍ وَإِنَّهُمَا لَمُشَمِّرَتَانِ أَرَى خَدَمَ سُوقِهِمَا تَنْقُلَانِ الْقِرَبَ عَلَى مُتُونِهِمَا ثُمَّ تُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِهِمْ ثُمَّ تَرْجِعَانِ فَتَمْلَآَنِهَا ثُمَّ تَجِيئَانِ تُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ وَلَقَدْ وَقَعَ السَّيْفُ مِنْ يَدَيْ أَبِي طَلْحَةَ إِمَّا مَرَّتَيْنِ وَإِمَّا ثَلَاثًا مِنَ النُّعَاسِ " .
انس روایت:
جب احد کا دن ہوا تو چند لوگوں نے شکست پا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دیا اور ابوطلحہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تھے اور سپر کا اوٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کئے ہوئے تھے اور ابوطلحہ بڑے تیر انداز تھے، ان کی اس دن دو یا تین کمانیں ٹوٹ گئیں تو جب کوئی شخص تیروں کا ترکش لے کر نکلتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے فرماتے: ”یہ تیر رکھ دے ابوطلحہ کے لیے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم گردن اٹھا کر کافروں کو دیکھتے تو ابوطلحہ کہتے: اے نبی اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ گردن مت اٹھایئے ایسا نہ ہو کہ کافروں کا کوئی تیر آپ کے لگ جائے، میرا گلا آپ کے گلے کے برابر رہے (یعنی ابوطلحہ نے اپنا گلا آگے کیا تھا اگر کوئی تیر وغیرہ آئے تو مجھ کو لگے) سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے سیدہ عائشہ بنت ابی بکر اور ام سلیم رضی اللہ عنہن کو دیکھا، وہ دونوں کپڑے اٹھائے ہوئے تھیں (جیسے کام کے وقت کوئی اٹھاتا ہے) اور میں ان کی پنڈلی کی پازیب کو دیکھ رہا تھا۔ وہ دونوں مشکیں لاتی تھیں اپنی پیٹھ پر، پھر ان کو لوگوں کے منہ میں ڈالتیں اور سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے سامنے دو تین بار تلوار گر پڑی اونگھ سے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۶۸۳ کا خلاصہ
اس روایت میں غزوہ احد کا سخت وقت بیان ہوا ہے۔ کچھ لوگ نبی صلى الله عليه وسلم کے پاس سے ہٹ گئے، مگر ابو طلحہ رضی اللہ عنہ آپ صلى الله عليه وسلم کے سامنے ڈھال بن کر کھڑے رہے۔ وہ ماہر تیر انداز تھے، یہاں تک کہ اس دن ان کی دو یا تین کمانیں ٹوٹ گئیں۔ نبی صلى الله عليه وسلم تیر لانے والے سے فرماتے کہ تیر ابو طلحہ کے لیے رکھ دے۔ اسی منظر میں عائشہ رضی اللہ عنہا اور ام سلیم رضی اللہ عنہا پانی کی مشکیں اٹھا کر لوگوں کو پانی پلا رہی تھیں۔ یہ حدیث غزوہ احد، نبی صلى الله عليه وسلم کی حفاظت، ابو طلحہ کی قربانی، اور صحابیات کی خدمت کو ایک ساتھ دکھاتی ہے، مگر ہمیں اسی بیان تک محدود رہنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مشکل وقت میں ابو طلحہؓ نے نبی صلى الله عليه وسلم کی حفاظت کے لیے خود کو آگے کیا۔
- صحابیات نے میدان میں پانی پہنچانے کی محنت کی۔
- حدیث میں خدمت، ہمت اور حفاظت تینوں پہلو صاف نظر آتے ہیں۔
