صحیح مسلم حدیث ۴۷۲۷ - امانت اور گھریلو ذمہ داری
امانت کی حدیث: باپ کے مال کی ذمہ داری بھی سوال بنے گی
صحیح مسلم : ۴۷۲۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۲۷
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمَعْنَى حَدِيثِ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : وَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَدْ قَالَ الرَّجُلُ رَاعٍ فِي مَالِ أَبِيهِ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ،
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا اور اس میں یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے مال کا محافظ ہے اور سوال ہوگا اس کا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۷۲۷ کا خلاصہ
اس روایت میں اسی ذمہ داری والی حدیث کا مضمون ہے، اور ایک اضافہ بھی بیان ہوا کہ آدمی اپنے باپ کے مال کا نگہبان ہے اور اس کے بارے میں سوال ہوگا۔ اس سے بات اور واضح ہو جاتی ہے کہ ذمہ داری صرف اپنی کمائی یا اپنی ملکیت تک محدود نہیں۔ اگر کسی کے پاس والد، گھر یا خاندان کا مال امانت کے طور پر ہو تو اس میں بھی احتیاط چاہیے۔ حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ جس چیز پر انسان کو اختیار یا دیکھ بھال دی گئی ہے، وہ اس کے لیے امتحان ہے۔ گھر کے معاملات، بچوں کی پرورش، شوہر کے گھر کی حفاظت، مالک کے مال کی نگرانی اور والد کے مال کی حفاظت، یہ سب جواب دہی کے دائرے میں آتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- والد یا گھر کا مال بھی امانت سمجھا جائے۔
- اختیار ملنے کے ساتھ جواب دہی بھی آتی ہے۔
- گھریلو ذمہ داری دین کے معاملے سے الگ نہیں۔
