صحیح مسلم حدیث ۴۷۲۶ - نگہبانی کی جواب دہی
نگہبان کی حدیث: ہر ذمہ داری کا حساب ہے
صحیح مسلم : ۴۷۲۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۲۶
قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ بِهَذَا مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ ، عَنْ نَافِعٍ ،
اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۷۲۶ کا خلاصہ
یہ حدیث بھی اسی معنی کے ساتھ آئی ہے کہ ہر شخص اپنی رعیت کا نگہبان ہے۔ اس طرح کی مختلف اسناد سے روایت کا آنا اس مضمون کو یاد رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ حدیث کے الفاظ زندگی کے بہت عام کاموں کو بھی دین کی جواب دہی سے جوڑتے ہیں۔ گھر کا فرد اپنے گھر والوں کا خیال رکھے، عورت گھر اور بچوں کی ذمہ داری سمجھے، اور جس کے پاس کسی کا مال ہو وہ اسے امانت سمجھے۔ یہاں “رعیت” کا لفظ صرف عوام کے لیے نہیں، بلکہ ہر اس چیز کے لیے سمجھا جاتا ہے جو کسی کے سپرد ہو۔ اس لیے یہ حدیث گھر، دفتر، ادارہ اور مال کی حفاظت سب کے لیے رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سپرد کیا گیا کام امانت سمجھ کر ادا کیا جائے۔
- رعیت کا مفہوم گھر اور مال تک بھی آتا ہے۔
- ہر شخص اپنی حد میں جواب دہ ہے۔
