صحیح مسلم حدیث ۴۷۳۵ - غلول سے سخت تنبیہ
غلول سے بچو: امانت میں خیانت کا انجام
صحیح مسلم : ۴۷۳۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۳۵
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، وَعُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ جميعا ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِمِثْلِ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ،
ابوہریرہ روایت:
سیدنا ابوہریرہ سے یہ حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۷۳۵ کا خلاصہ
یہ روایت بھی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔ اصل نصیحت غلول سے بچنے کی ہے، یعنی ایسا مال لینا یا چھپانا جو انسان کے لیے جائز نہ ہو، خاص طور پر وہ مال جو اجتماعی یا سپرد کیا گیا ہو۔ حدیث میں قیامت کا منظر بتایا گیا ہے کہ جس نے جو چیز ناحق لی، وہ اسے اٹھائے ہوئے آئے گا اور مدد طلب کرے گا، مگر اسے بتایا جائے گا کہ حکم پہلے پہنچا دیا گیا تھا۔ یہ انداز بہت مؤثر ہے، کیونکہ اس سے انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں چھپی ہوئی خیانت آخرت میں چھپی نہیں رہے گی۔ سرکاری مال، امانت اور لوگوں کے حقوق میں احتیاط اس حدیث کا اصل سبق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ناحق لی ہوئی چیز آخرت میں بوجھ بن سکتی ہے۔
- امانت کے مال میں ذرا سی خیانت بھی خطرناک ہے۔
- حکم پہنچ جانے کے بعد بہانہ باقی نہیں رہتا۔
