صحیح مسلم حدیث ۴۷۳۶ - امانت میں خیانت
امانت میں خیانت کی حدیث: غلول کا سخت انجام
صحیح مسلم : ۴۷۳۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۳۶
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، الْغُلُولَ فَعَظَّمَهُ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ ، قَالَ حَمَّادٌ : ثُمَّ سَمِعْتُ يَحْيَي بَعْدَ ذَلِكَ يُحَدِّثُهُ ، فَحَدَّثَنَا بِنَحْوِ مَا حَدَّثَنَا عَنْهُ أَيُّوبُ ،
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۷۳۶ کا خلاصہ
اس سند سے بھی غلول کی حرمت کا وہی مضمون نقل ہوا ہے۔ حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلول کا ذکر کر کے اسے بڑا معاملہ بتایا۔ پھر قیامت کی مثالوں سے سمجھایا کہ جو شخص ناحق کوئی چیز لے گا، وہ چیز اس کے گلے کا بوجھ بن کر ظاہر ہوگی۔ اس میں جانور، مال، کاغذات اور دیگر حقوق کی مثالیں آتی ہیں۔ یہ بات بہت سیدھی ہے: جس مال یا حق پر ہمارا حق نہیں، اسے لینا یا چھپانا خطرناک ہے۔ آج بھی اگر کسی کے پاس ادارے، قوم، خاندان یا کسی فرد کا مال امانت ہو تو اسے صاف حساب کے ساتھ واپس کرنا چاہیے، کیونکہ حدیث امانت میں خیانت سے صاف ڈراتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جس چیز پر حق نہ ہو اسے لینا منع ہے۔
- سپرد کیے گئے مال کا صاف حساب رکھنا چاہیے۔
- دنیا کی چھپی خیانت آخرت میں ظاہر ہو سکتی ہے۔
