حدیث ۴۷۳۸

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۳۸

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ ، قَالُوا ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : " اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنَ الْأَسْدِ ، يُقَالُ لَهُ ابْنُ اللُّتْبِيَّةِ ، قَالَ عَمْرٌو ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ : عَلَى الصَّدَقَةِ ، فَلَمَّا قَدِمَ ، قَالَ : هَذَا لَكُمْ وَهَذَا لِي أُهْدِيَ لِي ، قَالَ : فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَقَالَ : مَا بَالُ عَامِلٍ أَبْعَثُهُ ، فَيَقُولُ هَذَا لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي ، أَفَلَا قَعَدَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ أَوْ فِي بَيْتِ أُمِّهِ حَتَّى يَنْظُرَ أَيُهْدَى إِلَيْهِ أَمْ لَا ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَنَالُ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْهَا شَيْئًا ، إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى عُنُقِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ أَوْ بَقَرَةٌ لَهَا خُوَارٌ أَوْ شَاةٌ تَيْعِرُ ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْنَا عُفْرَتَيْ إِبْطَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ؟ مَرَّتَيْنِ " ،

‏‏‏‏ سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسد کے قبیلہ میں سے ایک شخص کو جس کو ابن لتبیہ کہتے تھے صدقہ وصول کرنے پر مقرر کیا جب وہ لوٹ کر آیا تو کہنے لگا، یہ آپ کا مال ہے اور یہ مجھے تحفہ کے طور پر ملا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی تعریف کی اور ستائش کی پھر فرمایا: ”کیا حال ہے اس تحصیلدار کا جس کو میں مقرر کرتا ہوں پھر کہتا ہے یہ تمہارا مال ہے اور یہ مجھے ہدیہ ملا۔ وہ اپنے باپ یا ماں کے گھر میں کیوں نہ بیٹھا رہا پھر دیکھتے کہ اس کو ہدیہ ملتا یا نہیں۔ (یعنی اگر اس وقت بھی جب سرکاری کام نہ ہو کوئی ہدیہ دیا کرتا ہو تو اس کا ہدیہ کام کے بعد بھی درست ہے ورنہ ظاہر ہے کہ اس نے ہدیہ دباؤ سے دیا ہے یا کسی غرض سے اور ایسا ہدیہ لینا حرام ہے) قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، کوئی تم میں سے ایسا مال نہ لے گا مگر قیامت کے دن اپنی گردن پر لاد کر اس کو لاۓ گا، اونٹ ہو گا تو وہ بڑبڑاتا ہو گا، گائے ہو گی تو وہ چلاتی ہو گی، بکری ہو گی تو وہ میمیں میمیں کرتی ہو گی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی ہم کو نظر آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا اللہ! میں نے (تیرا حکم) پہنچا دیا۔“

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں