صحیح مسلم حدیث ۴۷۷ - مؤمنوں کا جمع ہونا اور شفاعت

مؤمنوں کا قیامت میں جمع ہونا اور شفاعت کی امید

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۷

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَجْمَعُ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيُلْهَمُونَ لِذَلِكَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا ، وَذَكَرَ فِي الرَّابِعَةِ ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ ، مَا بَقِيَ فِي النَّارِ ، إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ ، أَيْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ .

انس بن مالک روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اکھٹا کرے گا مومنوں کو قیامت کے دن ان کو خیال آئے گا۔“ اخیر تک جیسے اوپر حدیث گزری اس میں یہ ہے کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم چوتھی بار عرض کریں گے اے پروردگار! اب تو جہنم میں کوئی نہ رہا مگر جو قرآن کے حکم سے رکا ہوا ہے یعنی جو ہمیشہ رہنے کا مستحق ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۷۷ کا خلاصہ

اس روایت میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مؤمنوں کو قیامت کے دن جمع کرے گا۔ پھر اسی مفصل شفاعت والی حدیث جیسا مضمون بیان ہوا۔ اس روایت میں چوتھی مرتبہ کا ذکر خاص طور پر آیا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم عرض کریں گے، اے میرے رب، اب جہنم میں کوئی باقی نہیں مگر وہ جسے قرآن نے روک رکھا ہے، یعنی جس کے لیے ہمیشہ رہنا واجب ہے۔ اس حدیث کا اصل تعلق شفاعت کی حدیث، قیامت کے دن مؤمنوں کے جمع ہونے اور نبی صلى الله عليه وسلم کے رب کے حضور عرض کرنے سے ہے۔ یہ روایت پچھلی روایات کے مضمون کو مضبوط کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ آخرت میں نجات کا معاملہ اللہ کے حکم سے ہو گا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قیامت کے دن مؤمن جمع کیے جائیں گے۔
  • شفاعت کا معاملہ اللہ کے حکم سے ہو گا۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم اپنی امت کے لیے رب کے حضور عرض کریں گے۔
  • حدیث میں خلود کے مستحق لوگوں کا الگ ذکر آیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں