صحیح مسلم حدیث ۴۷۸۴ - فتنوں میں جماعت کے ساتھ رہنا
فتنوں میں مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۴۷۸۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۸۴
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ ، يَقُولُ : " كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْرِ ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ ، وَشَرٍّ فَجَاءَنَا اللَّهُ بِهَذَا الْخَيْرِ فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَقُلْتُ : هَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ وَفِيهِ دَخَنٌ ، قُلْتُ : وَمَا دَخَنُهُ ؟ ، قَالَ : قَوْمٌ يَسْتَنُّونَ بِغَيْرِ سُنَّتِي ، وَيَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْيِي تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ ، فَقُلْتُ : هَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صِفْهُمْ لَنَا ، قَالَ : نَعَمْ ، قَوْمٌ مِنْ جِلْدَتِنَا وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا تَرَى إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ ؟ ، قَالَ : تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ ، فَقُلْتُ : فَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلَا إِمَامٌ ؟ ، قَالَ : فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا ، وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ عَلَى أَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ " .
حذیفہ بن الیمان روایت:
لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھلی باتوں کو پوچھا کرتے اور میں بری بات کو پوچھتا اس ڈر سے کہیں برائی میں نہ پڑ جاؤں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم جاہلیت اور برائی میں تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ہم کو یہ بھلائی دی (یعنی اسلام) اب اس کے بعد بھی کچھ برائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن اس میں دھبہ ہے۔“ میں نے کہا: وہ دھبہ کیسا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے لوگ ہوں گے جو میری سنت پر نہیں چلیں گے اور میرے طریقہ کے سوا اور راہ پر چلیں گے ان میں اچھی باتیں بھی ہوں گی اور بری بھی۔“میں نے عرض کیا، پھر اس کے بعد برائی ہو گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو جہنم کے دروازے کی طرف لوگوں کو بلائیں گے جو ان کی بات مانے گا اس کو جہنم میں ڈال دیں گے۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ! ان لوگوں کا حال ہم سے بیان فرمایئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کا رنگ ہمارا سا ہی ہو گا اور ہماری ہی زبان بولیں گے۔“میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر اس زمانہ کو میں پاؤں تو کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہ اور ان کے امام کے ساتھ رہ۔“ کہا: اگر جماعت اور امام نہ ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو سب فرقوں کو چھوڑ دے اور اگرچہ ایک درخت کی جڑ دانت سے چباتا رہے مرتے دم تک۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۷۸۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے برائی کے بارے میں اس لیے پوچھا کہ کہیں وہ خود اس میں نہ پڑ جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ بھلائی کے بعد کچھ برائی بھی ہو گی، پھر ایسی بھلائی ہو گی جس میں دھبہ ہو گا، یعنی کچھ لوگ سنت اور طریقہ نبوی کے خلاف چلیں گے۔ پھر ایسے داعی ہوں گے جو جہنم کے دروازوں کی طرف بلائیں گے۔ اس موقع پر ہدایت دی گئی کہ مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کے ساتھ رہو۔ اگر جماعت اور امام نہ ہوں تو سب فرقوں سے الگ رہو۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام فتنوں سے بچاؤ، جماعت المسلمین، امام کی پیروی، اور گمراہ دعوتوں سے دوری ہے۔ اس میں زبان اور شکل سے دھوکا نہ کھانے کی بات بھی سمجھ آتی ہے، کیونکہ گمراہ لوگ اپنے ہی جیسے لوگوں میں سے ہو سکتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- برائی کو پہچاننے کے لیے سوال کرنا مفید ہو سکتا ہے۔
- فتنوں کے وقت مسلمانوں کی جماعت اور امام کے ساتھ رہنے کی تاکید ہے۔
- صرف زبان اور ظاہری پہچان دیکھ کر ہر دعوت پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔
- اگر صحیح جماعت اور امام نہ ملیں تو گمراہ فرقوں سے بچنا چاہیے۔
