صحیح مسلم حدیث ۴۷۸۳ - اعمال کی ذمہ داری اور اطاعت

سنو اور اطاعت کرو: اعمال کی ذمہ داری کس پر ہے؟

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۸۳

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَقَالَ : فَجَذَبَهُ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ " .

‏‏‏‏ اس میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو اور اطاعت کرو ان کے عمل ان کے ساتھ ہیں اور تمہارے عمل تمہارے ساتھ ہوں گے۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۷۸۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح فرمان ہے کہ سنو اور اطاعت کرو، کیونکہ ان کے عمل ان کے ساتھ ہیں اور تمہارے عمل تمہارے ساتھ ہوں گے۔ اس سے حاکم کی اطاعت حدیث کا ایک اہم پہلو سمجھ آتا ہے۔ انسان اکثر دوسروں کے عمل دیکھ کر اپنی ذمہ داری بھول جاتا ہے، مگر اس حدیث میں ہر شخص کو اپنے اعمال کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔ امیر کی اطاعت، ذمہ داری، اور جماعت کے ساتھ رہنا اس روایت کے اہم الفاظ ہیں۔ یہاں یہ نہیں کہا گیا کہ برے عمل کو اچھا سمجھو، بلکہ یہ بتایا گیا ہے کہ جواب دہی الگ الگ ہے۔ ایک مسلمان کو اپنے عمل کی فکر کرنی چاہیے، کیونکہ دوسرے کے عمل کا بوجھ اس پر نہیں رکھا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ہر انسان اپنے عمل کا جواب دہ ہے۔
  • دوسرے کی کوتاہی دیکھ کر اپنی ذمہ داری نہ چھوڑی جائے۔
  • اطاعت کا حکم سنجیدگی سے لیا جائے۔
  • اعمال کی جواب دہی کو یاد رکھنا انسان کو محتاط بناتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں