صحیح مسلم حدیث ۴۷۹۰ - حاکم کی ناپسند بات پر صبر

حاکم کی بری بات دیکھ کر صبر کرنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۹۰

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْوِيه ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ ، فَإِنَّهُ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَمَاتَ فَمِيتَةٌ جَاهِلِيَّةٌ " .

ابن عباس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے حاکم سے بری بات دیکھے وہ صبر کرے اس لیے کہ جو جماعت سے بالشت بھر جدا ہو جائے اس کی موت جاہلیت کی موت ہو گی۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۷۹۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنے حاکم سے کوئی ناپسند بات دیکھے وہ صبر کرے۔ پھر فرمایا کہ جو جماعت سے بالشت بھر جدا ہو جائے اور اسی حال میں مر جائے، اس کی موت جاہلیت جیسی ہو گی۔ اس روایت کا بنیادی موضوع صبر، حاکم کی اطاعت، اور جماعت سے جڑے رہنا ہے۔ یہاں یہ نہیں کہا گیا کہ بری بات کو اچھا سمجھا جائے، بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ ناپسند بات دیکھ کر بھی ایسا قدم نہ اٹھایا جائے جو جماعت سے جدائی کا سبب بنے۔ حاکم کی اطاعت حدیث، صبر کی حدیث، اور جماعت چھوڑنے کی حدیث اسی پیغام کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔ عام زندگی میں اس کا مطلب یہ ہے کہ غصے اور ردعمل سے پہلے اپنی دینی ذمہ داری کو یاد رکھا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حاکم کی ناپسند بات دیکھ کر صبر کا حکم دیا گیا ہے۔
  • جماعت سے جدا ہونا سنگین معاملہ ہے۔
  • بری بات کو برا سمجھنا اور جماعت سے نہ ٹوٹنا دونوں الگ باتیں ہیں۔
  • غصے میں ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہیے جو دینی نقصان کا سبب بنے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں