صحیح مسلم حدیث ۴۷۸۶ - جماعت چھوڑنے اور تعصب کی وعید
جماعت چھوڑنے اور تعصب پر لڑنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۴۷۸۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۸۶
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي قَيْسِ بْنِ رِيَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ فَمَاتَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً ، وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ يَغْضَبُ لِعَصَبَةٍ أَوْ يَدْعُو إِلَى عَصَبَةٍ أَوْ يَنْصُرُ عَصَبَةً فَقُتِلَ فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ ، وَمَنْ خَرَجَ عَلَى أُمَّتِي يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا وَلَا يَتَحَاشَى مِنْ مُؤْمِنِهَا ، وَلَا يَفِي لِذِي عَهْدٍ عَهْدَهُ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ " ،
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص حاکم کی اطاعت سے باہر ہو جائے اور جماعت کا ساتھ چھوڑ دے پھر وہ مرے تو اس کی موت جاہلیت کی سی ہو گی اور جو شخص اندھے جھنڈے کے تلے لڑے (جس لڑائی کی درستی شریعت سے صاف صاف ثابت نہ ہو) غصہ ہو قوم کے لحاظ سے یا بلاتا ہو قوم کی طرف یا مدد کرتا ہو قوم کی اور اللہ کی رضامندی مقصود نہ ہو، پھر مارا جائے تو اس کا مارا جانا جاہلیت کے زمانے کا سا ہو گا اور جو شخص میری امت پر دست درازی کرے اور اچھے اور بروں کو ان میں کے قتل کرے اور مؤمن کو بھی نہ چھوڑے اور جس سے عہد ہوا ہو، اس کا عہد پورا نہ کرے تو وہ مجھ سے علاقہ نہیں رکھتا اور میں اس سے تعلق نہیں رکھتا۔“ (یعنی وہ مسلمان نہیں ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۷۸۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں تین بڑی خرابیوں سے خبردار کیا گیا ہے۔ پہلی یہ کہ جو شخص اطاعت سے نکل جائے اور جماعت چھوڑ دے، پھر اسی حال میں مرے تو اس کی موت جاہلیت جیسی بتائی گئی۔ دوسری خرابی اندھے جھنڈے کے نیچے لڑنا ہے، یعنی ایسی لڑائی جس میں غصہ قومیت یا گروہ کے لیے ہو۔ تیسری خرابی امت پر دست درازی کرنا، نیک اور بد سب کو مارنا، مؤمن کا لحاظ نہ کرنا، اور عہد والے کا عہد پورا نہ کرنا ہے۔ اس حدیث کا بنیادی موضوع جماعت، اطاعت، تعصب، اور عہد کی پاسداری ہے۔ یہاں تعصب کی حدیث، جماعت چھوڑنے کی حدیث، اور میتۃ جاہلیہ جیسے سرچ الفاظ اسی پیغام سے جڑے ہیں۔ یہ روایت مسلمان کو جذباتی گروہ بندی اور بے لگام تشدد سے بچاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جماعت سے الگ ہو کر ضد کا راستہ اختیار کرنا خطرناک بتایا گیا ہے۔
- قوم یا گروہ کے اندھے غصے پر لڑنا درست نہیں۔
- مؤمن اور عہد والے کے حق کا لحاظ ضروری ہے۔
- نیک و بد سب پر بے فرق حملہ کرنا سخت مذموم عمل ہے۔
