صحیح مسلم حدیث ۴۷۸۷ - اطاعت، جماعت اور تعصب سے بچاؤ
اطاعت سے نکلنے اور جماعت چھوڑنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۴۷۸۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۸۷
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ الْقَيْسِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ جَرِيرٍ ، وَقَالَ : لَا يَتَحَاشَ مِنْ مُؤْمِنِهَا .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۷۸۷ کا خلاصہ
اس روایت کے بارے میں ترجمہ میں بتایا گیا ہے کہ اس کا مفہوم اوپر والی روایت جیسا ہے۔ اس لیے اس کا اصل پیغام بھی وہی ہے کہ اطاعت سے باہر نکلنا، مسلمانوں کی جماعت چھوڑنا، اور اندھے تعصب کے تحت لڑنا بہت خطرناک راستہ ہے۔ حدیث میں یہ بات بھی آتی ہے کہ جو شخص امت پر حملہ کرے، مؤمن کا لحاظ نہ کرے، اور عہد والے کا عہد پورا نہ کرے، وہ سخت وعید میں آتا ہے۔ اس روایت کو پڑھتے ہوئے جماعت کی حدیث، تعصب کی حدیث، اور میتۃ جاہلیہ جیسے الفاظ ذہن میں آتے ہیں۔ عام فہم بات یہ ہے کہ اسلام انسان کو اندھی گروہ بندی، غصے کی لڑائی، اور بے اصولی سے روکتا ہے۔ یہاں اصل زور اپنی ذمہ داری، جماعت کے ساتھ تعلق، اور عہد کی حفاظت پر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمان کو جماعت سے الگ ہو کر فتنہ کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔
- تعصب کی بنیاد پر لڑائی کرنا خطرناک عمل ہے۔
- عہد کی پابندی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
- امت کے لوگوں کے ساتھ بے رحمی سخت وعید کا سبب بنتی ہے۔
