صحیح مسلم حدیث ۴۷۹۲ - قومی تعصب پر لڑنے کی ممانعت
قومی تعصب پر لڑنے کی حدیث اور اس کی وعید
صحیح مسلم : ۴۷۹۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۹۲
حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قُتِلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ يَدْعُو عَصَبِيَّةً أَوْ يَنْصُرُ عَصَبِيَّةً فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ " .
جندب بن عبداللہ بجلی روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اندھے جھنڈے کے تلے مارا جائے اور بلاتا ہو تعصب اور قومی طرفداری کی طرف یا مدد کرتا ہو قومی تعصب کی تو اس کا قتل جاہلیت کا سا ہو گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۷۹۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اندھے جھنڈے کے نیچے مارا جائے، تعصب کی طرف بلاتا ہو یا تعصب کی مدد کرتا ہو، تو اس کا قتل جاہلیت جیسا ہو گا۔ یہاں اصل موضوع تعصب، اندھی حمایت، اور بے اصول لڑائی ہے۔ حدیث میں یہ بات نہیں کہی گئی کہ ہر تعلق یا ہر قوم کا ذکر غلط ہے، بلکہ خاص طور پر اس تعصب کی مذمت ہے جس کے لیے انسان لڑائی کرے، لوگوں کو بلائے، یا اس کی مدد کرے۔ تعصب کی حدیث، قوم پرستی کی حدیث، اور اندھے جھنڈے کی حدیث اس روایت کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔ ایک عام مسلمان کے لیے پیغام یہ ہے کہ دین کی جگہ قوم، گروہ یا غصے کو معیار نہ بنایا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تعصب کی طرف بلانا سخت ناپسندیدہ عمل ہے۔
- اندھی حمایت پر لڑنا جاہلیت کے طریقے سے مشابہ بتایا گیا ہے۔
- قوم یا گروہ کے غصے کو دین کا معیار نہیں بنانا چاہیے۔
- لڑائی میں مقصد اور بنیاد کو دیکھنا ضروری ہے۔
