صحیح مسلم حدیث ۴۷۹۱ - امیر کی بات پر صبر اور جماعت
امیر سے ناپسند بات دیکھو تو صبر کرو
صحیح مسلم : ۴۷۹۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۹۱
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا الْجَعْدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ كَرِهَ مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا فَلْيَصْبِرْ عَلَيْهِ ، فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ خَرَجَ مِنَ السُّلْطَانِ شِبْرًا ، فَمَاتَ عَلَيْهِ إِلَّا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً " .
ابن عباس روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے حاکم سے بری بات دیکھے وہ صبر کرے کیونکہ جو کوئی بادشاہ سے بالشت بھر جدا ہو پھر مرے اسی حالت میں، اس کی موت جاہلیت کی سی موت ہو گی۔
صحیح مسلم حدیث ۴۷۹۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں فرمایا گیا کہ جو شخص اپنے امیر سے کوئی ناپسند بات دیکھے وہ اس پر صبر کرے۔ پھر بتایا گیا کہ جو شخص سلطان سے بالشت بھر نکل جائے اور اسی حالت میں مرے، وہ جاہلیت کی موت کی طرح مرے گا۔ یہ روایت پچھلی روایت کے قریب معنی رکھتی ہے، مگر یہاں سلطان سے نکلنے کا لفظ آیا ہے۔ اس کا موضوع حاکم کی اطاعت، صبر، اور جماعت سے وابستگی ہے۔ حاکم کی اطاعت حدیث اور میتۃ جاہلیہ حدیث جیسے سرچ الفاظ اسی روایت سے جڑے ہیں۔ یہاں اصل پیغام یہ ہے کہ حاکم کی کسی بات کو ناپسند کرنا ایک چیز ہے، مگر اس ناپسندیدگی کو جماعت سے ٹوٹنے کا سبب بنا لینا دوسری چیز ہے، جس سے حدیث نے سختی سے ڈرایا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امیر کی ناپسند بات پر صبر کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔
- سلطان سے جدائی کو معمولی بات نہیں سمجھنا چاہیے۔
- جماعت سے تعلق برقرار رکھنا اہم ہے۔
- ناپسندیدگی کو بے قابو ردعمل میں بدلنے سے بچنا چاہیے۔
