صحیح مسلم حدیث ۴۷۹۳ - بیعت اور اطاعت سے ہاتھ کھینچنا

بیعت کے بغیر مرنے اور اطاعت چھوڑنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۹۳

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : " جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ ، حِينَ كَانَ مِنْ أَمْرِ الْحَرَّةِ مَا كَانَ زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَ : اطْرَحُوا لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وِسَادَةً ، فَقَالَ : إِنِّي لَمْ آتِكَ لِأَجْلِسَ أَتَيْتُكَ لِأُحَدِّثَكَ حَدِيثًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُهُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ خَلَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ ، وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً " ،

نافع روایت:

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عبداللہ بن مطیع کے پاس آئے جب حرہ کا واقعہ ہوا یزید بن معاویہ کے زمانہ میں، اس نے مدینہ منورہ پر لشکر بھیجا اور مدینہ والے حرہ میں جو ایک مقام ہے مدینہ سے ملا ہوا قتل ہوئے اور طرح طرح کے ظلم مدینہ والوں پر ہوئے۔عبداللہ بن مطیع نے کہا: ابوعبدالرحمٰن (یہ کنیت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی) کے لیے توشک بچھاؤ۔ انہوں نے کہا: میں اس لیے نہیں آیا کہ بیٹھوں بلکہ ایک حدیث تجھ کو سنانے کے لیے آیا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جو شخص اپنا ہاتھ نکال لے اطاعت سے وہ قیامت کے دن اللہ سے ملے گا اور کوئی دلیل اس کے پاس نہ ہو گی اور جو شخص مر جائے اور کسی سے اس نے بیعت نہ کی ہو تو اس کی موت جاہلیت کی سی ہو گی۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۷۹۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک موقع پر بیٹھنے کے بجائے حدیث سنانے کو ترجیح دی۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بیان کیا کہ جو شخص اطاعت سے اپنا ہاتھ نکال لے، وہ قیامت کے دن اللہ سے ملے گا اور اس کے پاس کوئی دلیل نہ ہو گی۔ پھر فرمایا کہ جو شخص اس حال میں مرے کہ اس کی گردن میں بیعت نہ ہو، اس کی موت جاہلیت جیسی ہو گی۔ اس روایت کا اصل موضوع بیعت، اطاعت، اور جماعتی نظم ہے۔ بیعت کی حدیث، اطاعت سے نکلنے کی حدیث، اور میتۃ جاہلیہ حدیث اس کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔ یہاں پیغام یہ ہے کہ دین میں اجتماعی ذمہ داری کو معمولی نہ سمجھا جائے اور اطاعت کے تعلق کو بلاوجہ نہ توڑا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اطاعت سے ہاتھ کھینچنا سنگین معاملہ ہے۔
  • بیعت کو جماعتی ذمہ داری کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
  • قیامت کی جواب دہی کو یاد رکھنا چاہیے۔
  • دینی معاملے میں حدیث پہنچانا بھی اہم نصیحت ہو سکتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں