صحیح مسلم حدیث ۴۷۹۵ - اطاعت اور بیعت کی پابندی
بیعت کی پابندی اور اطاعت کا دینی سبق
صحیح مسلم : ۴۷۹۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۹۵
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَا جَمِيعًا : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۷۹۵ کا خلاصہ
اس روایت میں بتایا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی معنی مروی ہے جو نافع کے واسطے سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں آیا۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اطاعت سے ہاتھ کھینچنا اور بیعت کے بغیر مرنا سخت وعید کا سبب ہے۔ یہاں بیعت کی حدیث، اطاعت کی پابندی، اور میتۃ جاہلیہ جیسے الفاظ اصل موضوع کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس حدیث میں کوئی لمبی تفصیل نہیں، مگر یہ پچھلی روایت کے معنی کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔ حدیث پڑھنے والے کے لیے یہ بات اہم ہے کہ دینی نظم، جماعتی تعلق، اور جواب دہی کو ہلکا نہ لیا جائے۔ اس روایت کا انداز بھی بتاتا ہے کہ ایک ہی تعلیم کئی راستوں سے محفوظ ہو سکتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیعت اور اطاعت کا تعلق اہم دینی ذمہ داری ہے۔
- اطاعت سے بلاوجہ نکلنا سخت وعید کا سبب بتایا گیا ہے۔
- حدیث کے معنی کو مختلف سندوں سے بیان کیا جا سکتا ہے۔
- جماعتی نظم کو توڑنے سے پہلے آخرت کی جواب دہی یاد رکھنی چاہیے۔
