صحیح مسلم حدیث ۴۷۹۶ - امت کا اتحاد بگاڑنے کی سخت ممانعت
امت کا اتحاد توڑنے سے متعلق سخت حدیث
صحیح مسلم : ۴۷۹۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۹۶
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ نَافِعٍ : حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، وقَالَ ابْنُ بَشَّارٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَرْفَجَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّهُ سَتَكُونُ هَنَاتٌ وَهَنَاتٌ ، فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُفَرِّقَ أَمْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَهِيَ جَمِيعٌ ، فَاضْرِبُوهُ بِالسَّيْفِ كَائِنًا مَنْ كَانَ " ،
عرفجہ روایت:
میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے۔ ”قریب ہیں فتنے اور فساد پھر جو کوئی چاہے اس امت کے اتفاق کو بگاڑنا تو اس کو تلوار سے مارو چاہے جو کوئی بھی ہو۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۷۹۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عرفجہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قریب ہے فتنے اور فساد ہوں گے، پھر جو شخص اس امت کے اتفاق کو بگاڑنا چاہے جب کہ امت جمع ہو، اس کے بارے میں سخت حکم دیا گیا۔ اس روایت کا مرکزی موضوع امت کا اتحاد، فتنہ، اور جماعت کو ٹوٹنے سے بچانا ہے۔ علمائے کرام کے مطابق ایسے سخت احکام کو ذاتی غصے یا عام آدمی کے اپنے اقدام کے طور پر نہیں سمجھا جاتا، بلکہ شرعی نظم اور ذمہ دار اختیار کے دائرے میں سمجھا جاتا ہے۔ حدیث کے الفاظ سے اصل سبق یہ ملتا ہے کہ امت کی وحدت کو جان بوجھ کر توڑنا بہت خطرناک کام ہے۔ فتنوں کی حدیث، امت کا اتحاد، اور جماعت کو نہ توڑنا اس کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فتنوں کے وقت امت کے اتفاق کو بچانا بہت اہم ہے۔
- جماعت کو جان بوجھ کر توڑنے کی کوشش سخت مذموم ہے۔
- سخت احکام کو ذاتی انتقام یا جذبات کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
- اجتماعی امن کو بگاڑنا معمولی معاملہ نہیں۔
