صحیح مسلم حدیث ۴۷۹۸ - جماعت میں پھوٹ ڈالنے کی ممانعت
جماعت میں پھوٹ ڈالنے والے کے بارے میں حدیث
صحیح مسلم : ۴۷۹۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۹۸
وحَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي يَعْفُورٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَرْفَجَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ أَتَاكُمْ وَأَمْرُكُمْ جَمِيعٌ عَلَى رَجُلٍ وَاحِدٍ يُرِيدُ أَنْ يَشُقَّ عَصَاكُمْ أَوْ يُفَرِّقَ جَمَاعَتَكُمْ فَاقْتُلُوهُ " .
عرفجہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے۔ ”جو شخص تمہارے پاس آئے اور تم سب ایک شخص کے اوپر جمے ہو۔ وہ چاہے تم میں پھوٹ ڈالنا اور جدائی تو اس کو مار ڈالو۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۷۹۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تمہارا معاملہ ایک شخص پر جمع ہو اور کوئی آئے جو تمہاری لاٹھی توڑنا یا تمہاری جماعت کو جدا کرنا چاہے تو اس کے بارے میں سخت حکم ہے۔ یہاں اصل بات مسلمانوں کی جماعت کو ٹوٹنے سے بچانا ہے۔ حدیث کے الفاظ میں شق عصا، فرق جماعت، اور امرکم جمیع جیسے معنی آتے ہیں، یعنی جب لوگ ایک نظم پر جمع ہوں تو پھوٹ ڈالنا فتنہ بن سکتا ہے۔ علمائے کرام کے مطابق ایسے احکام ذاتی بدلہ یا عام آدمی کے اقدام کے لیے نہیں، بلکہ شرعی نظم اور ذمہ دار اختیار سے متعلق سمجھے جاتے ہیں۔ اس حدیث کا عام سبق یہ ہے کہ جماعتی امن کو توڑنے والی کوشش کو ہلکا نہ لیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جماعت میں پھوٹ ڈالنا خطرناک عمل ہے۔
- جب لوگ ایک نظم پر جمع ہوں تو اسے توڑنے کی کوشش سے بچنا چاہیے۔
- سخت الفاظ کو ذاتی کارروائی کا بہانہ نہیں بنایا جا سکتا۔
- فتنہ پھیلانے کے بجائے امن اور اتحاد کی حفاظت کرنی چاہیے۔
