صحیح مسلم حدیث ۴۷۹۹ - دو خلیفوں کی بیعت کا حکم

دو خلیفوں کی بیعت سے متعلق حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۹۹

وحَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا بُويِعَ لِخَلِيفَتَيْنِ فَاقْتُلُوا الْآخَرَ مِنْهُمَا " .

ابو سعید خدری روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو خلیفہ سے بیعت کی جائے تو جس سے اخیر میں بیعت ہوئی ہو اس کو مار ڈالو۔“ (اس لیے کہ اس کی خلافت پہلے خلیفہ کے ہوتے ہوئے باطل ہے)۔

صحیح مسلم حدیث ۴۷۹۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب دو خلیفوں سے بیعت کی جائے تو جس سے آخر میں بیعت ہوئی ہو اس کے بارے میں سخت حکم ہے۔ حدیث کے ترجمہ میں وجہ بھی دی گئی کہ پہلے خلیفہ کے ہوتے ہوئے دوسرے کی خلافت باطل ہے۔ اس روایت کا اصل موضوع خلافت، بیعت، اور امت کے سیاسی نظم کو ٹوٹنے سے بچانا ہے۔ علمائے کرام کے مطابق اس طرح کے احکام ذاتی طور پر نافذ کرنے کے لیے نہیں ہوتے، بلکہ شرعی نظم، قضاء، اور ذمہ دار اختیار کے دائرے میں سمجھے جاتے ہیں۔ عام قاری کے لیے اہم سبق یہ ہے کہ قیادت کے معاملے میں دوہرا نظم فتنہ پیدا کر سکتا ہے۔ بیعت کی حدیث، دو خلیفہ حدیث، اور امت کا اتحاد اس کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ایک وقت میں دو متوازی قیادتیں فتنہ کا سبب بن سکتی ہیں۔
  • بیعت کے معاملے میں نظم اور ترتیب اہم ہے۔
  • سخت احکام کو ذاتی اقدام کے طور پر نہیں سمجھنا چاہیے۔
  • امت کے اجتماعی معاملے میں پھوٹ سے بچنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں