صحیح مسلم حدیث ۴۸۰۰ - امیروں کے برے کام سے انکار
امیروں کے برے کام کو برا جاننے کی حدیث
صحیح مسلم : ۴۸۰۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۰۰
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَي ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " سَتَكُونُ أُمَرَاءُ فَتَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ ، فَمَنْ عَرَفَ بَرِئَ وَمَنْ أَنْكَرَ سَلِمَ وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ " ، وَتَابَعَ ، قَالُوا : أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ ، قَالَ : لَا مَا صَلَّوْا " .
ام سلمہ روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہے کہ تم پر امیر مقرر ہوں تم ان کے اچھے کام بھی دیکھو گے اور برے کام بھی پھر جو کوئی برے کام کو پہچان لے وہ بری ہوا (اگر اس کو روکے ہاتھ یا زبان یا دل سے) اور جس نے برے کام کو برا جانا وہ بھی بچ گیا لیکن جو راضی ہوا برے کام سے اور پیروی کی اس کی (تباہ ہوا)۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم ایسے امیروں سے لڑائی نہ کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں جب تک وہ نماز پڑھا کریں۔“ (اور نماز بھی چھوڑ دیں تو ان کو مارو اور امارت سے موقوف کر دو۔
صحیح مسلم حدیث ۴۸۰۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر ایسے امیر مقرر ہوں گے جن کے اچھے کام بھی دیکھو گے اور برے کام بھی۔ جو برے کام کو پہچان لے وہ بری ہوا، اور جس نے برے کام کو برا جانا وہ بھی بچ گیا، مگر جو اس برے کام سے راضی ہوا اور اس کی پیروی کی وہ نقصان میں پڑا۔ صحابہ نے پوچھا کہ کیا ہم ایسے امیروں سے لڑائی نہ کریں؟ فرمایا: نہیں، جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں۔ اس حدیث کا موضوع برائی سے انکار، حاکم کی اطاعت، نماز، اور دل کا رویہ ہے۔ یہاں اصل پیغام یہ ہے کہ برے کام کو پسند نہ کیا جائے، مگر لڑائی کا فیصلہ جذبات سے نہ کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- برے کام کو پہچاننا اور اسے برا جاننا ضروری ہے۔
- برائی پر راضی ہونا اور اس کی پیروی کرنا نقصان دہ ہے۔
- حاکم کے برے عمل دیکھ کر بھی لڑائی کا حکم فوراً نہیں دیا گیا۔
- نماز کو اس حدیث میں ایک اہم حد کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔
