صحیح مسلم حدیث ۴۷۹۴ - بیعت اور قیامت کی جواب دہی
اطاعت اور بیعت چھوڑنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۴۷۹۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۹۴
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ أَتَى ابْنَ مُطِيعٍ فَذَكَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ ،
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۷۹۴ کا خلاصہ
اس روایت کے ترجمہ میں بتایا گیا ہے کہ معنی وہی ہے جو اوپر گزرا۔ یعنی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اطاعت سے ہاتھ نکالنے اور بیعت کے بغیر مرنے کے بارے میں سخت بات فرمائی۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع بیعت، اطاعت، اور قیامت کی جواب دہی ہے۔ جب کوئی شخص اطاعت سے ہاتھ کھینچتا ہے تو حدیث کے الفاظ کے مطابق قیامت کے دن اس کے پاس دلیل نہ ہو گی۔ اور بیعت کے بغیر مرنے کو جاہلیت جیسی موت کہا گیا۔ بیعت کی حدیث اور اطاعت کی حدیث تلاش کرنے والوں کے لیے یہ روایت واضح کرتی ہے کہ اجتماعی نظم کو آسانی سے توڑ دینا دینی اعتبار سے خطرناک ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیعت کے معاملے کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
- اطاعت سے نکلنے کی جواب دہی آخرت میں بھی ہو گی۔
- جماعتی نظم سے تعلق قائم رکھنا اہم ہے۔
- حدیث کے ایک معنی کو مختلف سندوں سے نقل کیا جا سکتا ہے۔
