صحیح مسلم حدیث ۴۷۸۹ - تعصب اور امت پر زیادتی کی وعید
تعصب، جماعت اور عہد شکنی سے بچنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۴۷۸۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۸۹
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَمَّا ابْنُ الْمُثَنَّى فَلَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَدِيثِ ، وَأَمَّا ابْنُ بَشَّارٍ ، فَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۷۸۹ کا خلاصہ
اس روایت کے ترجمہ میں بتایا گیا ہے کہ مفہوم وہی ہے جو اوپر گزرا۔ عربی متن میں بھی یہ بات آتی ہے کہ بعض راویوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر الفاظ میں کیا اور بعض نے روایت کو اسی معنی کے ساتھ نقل کیا۔ اس طرح یہ حدیث پچھلی روایات کے مضمون کو مضبوط کرتی ہے: اطاعت سے نکلنا، جماعت چھوڑنا، اندھے جھنڈے کے نیچے لڑنا، قومیت کے غصے میں آنا، امت کے نیک و بد کو مارنا، مؤمن کا لحاظ نہ کرنا، اور عہد نہ نبھانا۔ اس کا موضوع تعصب کی حدیث، جماعت کی اہمیت، اور عہد کی پابندی ہے۔ یہاں سبق یہ ہے کہ مسلمان کو ایسے راستے سے بچنا چاہیے جس میں دین کے بجائے غصہ، گروہ، یا قومیت اصل محرک بن جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث کے ایک ہی معنی کو کئی سندوں سے نقل کیا جا سکتا ہے۔
- تعصب اور اندھی گروہ بندی سے بچنا چاہیے۔
- امت کے لوگوں پر بے اصولی سے دست درازی سخت مذموم ہے۔
- عہد کی پابندی کو دینی ذمہ داری سمجھنا چاہیے۔
