صحیح مسلم حدیث ۴۸۲۲ - بیعت رضوان میں جانثاری کا عزم
بیعت رضوان کی حدیث: موت تک وفاداری کا عہد
صحیح مسلم : ۴۸۲۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۲۲
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، قَالَ : قُلْتُ لِسَلَمَةَ : " عَلَى أَيِّ شَيْءٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ ؟ ، قَالَ : عَلَى الْمَوْتِ " .
یزید بن ابی عبید نے کہا: میں نے سلمہ سے پوچھا: تم نے کس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی؟ انہوں نے کہا مر جانے پر کی۔
صحیح مسلم حدیث ۴۸۲۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع بیعت رضوان ہے۔ یزید بن ابی عبید نے سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ حدیبیہ کے دن تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس بات پر بیعت کی تھی؟ جواب ملا کہ موت پر بیعت کی۔ یہ مختصر حدیث صحابہ کے مضبوط عزم کو بیان کرتی ہے۔ یہاں بیعت رضوان، حدیبیہ کی بیعت، اور موت پر بیعت جیسے الفاظ اسی ایک بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اس موقع پر صحابہ پیچھے ہٹنے کے بجائے ثابت قدم رہنے کا عہد کر رہے تھے۔ حدیث میں لمبی تفصیل نہیں، صرف سوال اور صاف جواب ہے۔ اسی لیے اس کی تشریح میں بھی یہی کہنا درست ہے کہ یہ عہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وفاداری اور ثابت قدمی کا تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیبیہ کے دن صحابہ نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے مضبوط بیعت کی۔
- سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ نے صاف بتایا کہ بیعت موت پر تھی۔
- دینی عہد کو سنجیدگی سے لینا اس روایت سے ظاہر ہوتا ہے۔
