صحیح مسلم حدیث ۴۸۲۱ - شجرہ رضوان کی پہچان اور سادہ سبق
شجرہ رضوان کی حدیث: واقعہ یاد رہے، درخت نہیں
صحیح مسلم : ۴۸۲۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۲۱
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " لَقَدْ رَأَيْتُ الشَّجَرَةَ ثُمَّ أَتَيْتُهَا بَعْدُ فَلَمْ أَعْرِفْهَا " .
سیدنا سعید بن مسیّب رضی اللہ عنہ کے باپ نے کہا: میں نے شجرہ رضوان دیکھا تھا لیکن پھر جو میں اس کے پاس آیا تو پہچان نہ سکا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۸۲۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع شجرہ رضوان ہے۔ روایت میں سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کے والد کا بیان ہے کہ انہوں نے شجرہ رضوان دیکھا تھا، پھر جب بعد میں اس کے پاس آئے تو اسے پہچان نہ سکے۔ یہ بات بہت سادہ انداز میں بتاتی ہے کہ بیعت رضوان کا واقعہ اپنی جگہ بڑا اہم تھا، مگر بعد میں درخت کی شناخت باقی نہ رہی۔ اس لیے شجرہ رضوان کی حدیث پڑھتے ہوئے اصل توجہ اس واقعے کی خبر پر رہتی ہے، نہ کہ کسی خاص درخت کو پہچاننے یا اس کے بارے میں دعوے کرنے پر۔ متن ہمیں صرف اتنا بتاتا ہے کہ دیکھنے والے صحابی بعد میں اس درخت کو نہ پہچان سکے، اس سے روایت کی سادگی اور احتیاط دونوں سامنے آتی ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابی نے شجرہ رضوان دیکھا، مگر بعد میں اسے پہچان نہ سکے۔
- واقعے کی خبر محفوظ رہی، درخت کی بعد کی شناخت واضح نہ رہی۔
- ایسی روایات بیان کرتے وقت متن کی حد تک بات کرنا بہتر ہے۔
