صحیح مسلم حدیث ۴۷۱۷ - حکومت کی درخواست اور حرص
حکومت مانگنے کی حدیث: عہدہ حرص سے نہیں ملتا
صحیح مسلم : ۴۷۱۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۱۷
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : " دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَرَجُلَانِ مِنْ بَنِي عَمِّي ، فَقَالَ أَحَدُ الرَّجُلَيْنِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمِّرْنَا عَلَى بَعْضِ مَا وَلَّاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَقَالَ الْآخَرُ مِثْلَ ذَلِكَ : فَقَالَ : إِنَّا وَاللَّهِ لَا نُوَلِّي عَلَى هَذَا الْعَمَلِ أَحَدًا سَأَلَهُ وَلَا أَحَدًا حَرَصَ عَلَيْهِ " .
ابوموسیٰ روایت:
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور میرے ساتھ دو میرے چچا زاد بھائی تھے، ان میں سے ایک بولا: یا رسول اللہ! ہم کو حکومت دیجئیے کسی ملک کی ان ملکوں میں سے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیئے اور دوسرے نے بھی ایسا ہی کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اللہ کہ ہم نہیں دیتے خدمت اس شخص کو جو اس کی درخواست کرے اور جو اس کی حرص کرے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۷۱۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں دو آدمیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حکومت یا عہدہ مانگا۔ دونوں نے کہا کہ ہمیں ان علاقوں میں سے کسی پر مقرر کر دیجیے جو اللہ نے آپ کو دیے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں قسم کے ساتھ فرمایا کہ ہم یہ خدمت اس شخص کو نہیں دیتے جو اسے مانگے، اور نہ اسے جو اس کی حرص کرے۔ یہ حدیث عہدہ مانگنے اور منصب کی حرص کے بارے میں نہایت واضح ہے۔ یہاں اصل پیغام یہ ہے کہ قیادت صرف خواہش کی بنیاد پر نہیں دی جاتی۔ حدیث میں درخواست کرنے والے موجود ہیں، جواب بھی واضح ہے، اور حکم بھی صاف ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر کسی شخص کی نیت یا بعد کے حالات کا اضافہ کرنا مناسب نہیں۔ عام فہم بات یہ ہے کہ اسلامی قیادت میں ذمہ داری کو حرص سے الگ رکھا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عہدہ مانگنے والوں کو مقرر نہیں فرمایا۔
- حدیث میں منصب کی حرص سے بچنے کی ہدایت ہے۔
- قیادت کو خدمت اور ذمہ داری کے طور پر سمجھنا چاہیے۔
