صحیح مسلم حدیث ۴۷۱۶ - امارت طلب کرنے کی ممانعت

امارت طلب نہ کرو: قیادت ایک ذمہ داری ہے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۱۶

وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يُونُسَ ، وَمَنْصُورٍ ، وَحُمَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ عَطِيَّةَ ، وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، وَهِشَامِ بْنِ حَسَّانَ كلهم ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔

صحیح مسلم حدیث ۴۷۱۶ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلی حدیث کے ہم معنی ہے، یعنی عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امارت مانگنے سے منع فرمایا۔ مضمون یہ ہے کہ اگر عہدہ سوال کے بعد دیا جائے تو انسان اسی ذمہ داری کے حوالے کر دیا جاتا ہے، اور اگر بغیر سوال کے دیا جائے تو مدد ملتی ہے۔ اس حدیث میں قیادت کی خواہش کو ہلکا نہیں سمجھا گیا، بلکہ اسے ایسی ذمہ داری بتایا گیا ہے جس میں آدمی کو اللہ کی مدد کی ضرورت ہے۔ متن سے یہی سبق ملتا ہے کہ منصب کا شوق، حکومت کی حرص، اور عہدہ مانگنے کا رویہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس کی شرح میں یہ کہنا کافی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امارت کو طلب کرنے کی چیز نہیں بنایا، بلکہ ذمہ داری کے طور پر سمجھایا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عہدہ مانگنا حدیث میں پسندیدہ انداز نہیں بتایا گیا۔
  • منصب ذمہ داری ہے، صرف عزت یا اختیار نہیں۔
  • بغیر سوال ملنے پر مدد کی بات بیان ہوئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں