حدیث ۴۷۱۸

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۱۸

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ حَاتِمٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو مُوسَى : أَقْبَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي رَجُلَانِ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ أَحَدُهُمَا ، عَنْ يَمِينِي وَالْآخَرُ عَنْ يَسَارِي ، فَكِلَاهُمَا سَأَلَ الْعَمَلَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَاكُ ، فَقَالَ : " مَا تَقُولُ يَا أَبَا مُوسَى أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ ؟ ، قَالَ : فَقُلْتُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَطْلَعَانِي عَلَى مَا فِي أَنْفُسِهِمَا وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُمَا يَطْلُبَانِ الْعَمَلَ ، قَالَ وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى سِوَاكِهِ تَحْتَ شَفَتِهِ وَقَدْ قَلَصَتْ ، فَقَالَ : لَنْ أَوْ لَا نَسْتَعْمِلُ عَلَى عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهُ وَلَكِنْ اذْهَبْ أَنْتَ يَا أَبَا مُوسَى أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ ، فَبَعَثَهُ عَلَى الْيَمَنِ ثُمَّ أَتْبَعَهُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ ، قَالَ : انْزِلْ وَأَلْقَى لَهُ وِسَادَةً ، وَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَهُ مُوثَقٌ ، قَالَ : مَا هَذَا ؟ ، قَالَ : هَذَا كَانَ يَهُودِيًّا ، فَأَسْلَمَ ثُمَّ رَاجَعَ دِينَهُ دِينَ السَّوْءِ ، فَتَهَوَّدَ ، قَالَ : لَا أَجْلِسُ حَتَّى يُقْتَلَ قَضَاءُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، فَقَالَ : اجْلِسْ نَعَمْ ، قَالَ : لَا أَجْلِسُ حَتَّى يُقْتَلَ قَضَاءُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ ، ثُمَّ تَذَاكَرَا الْقِيَامَ مِنَ اللَّيْلِ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا مُعَاذٌ : أَمَّا أَنَا فَأَنَامُ وَأَقُومُ وَأَرْجُو فِي نَوْمَتِي مَا أَرْجُو فِي قَوْمَتِي " .

‏‏‏‏ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میرے ساتھ دو آدمی تھے، ایک داہنی طرف اور ایک بائیں طرف، دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کام کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوموسیٰ یا عبداللہ بن قیس! (ابوموسیٰ کا نام ہے) تم کیا کہتے ہو۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ! قسم اس کی جس نے آپ کو سچا پیغمبر کر کے بھیجا، انہوں نے اپنے دل کی بات مجھ سے نہیں کہی اور مجھے معلوم نہ تھا کہ یہ کام (عہدہ خدمت) کی درخواست کریں گے۔ گویا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسواک دیکھ رہا ہوں، وہ نیچے ہونٹ کے ٹھہری ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم اس کو کام کبھی نہیں دیتے جو کام کی درخواست کرے۔ لیکن تم جاؤ اے ابوموسیٰ یا عبداللہ بن قیس!“ پھر ان کو یمن کے صوبہ کا عامل بنا کر بھیجا۔ بعد اس کے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو روانہ کیا (تاکہ وہ بھی شریک رہیں، ابوموسیٰ کے) جب معاذ وہاں پہنچے تو ابوموسیٰ نے کہا: اترو اور ایک گدہ ان کے لیے بچھایا، اتفاق سے وہاں ایک شخص قید میں جکڑا ہوا تھا۔ معاذ نے کہا: یہ کیا ہے؟ ابوموسیٰ نے کہا: یہ یہودی تھا، پھر مسلمان ہوا، پھر کمبخت یہودی ہو گیا اپنا برا دین اختیار کیا۔ معاذ نے کہا: میں نہیں بیٹھوں گا جب تک یہ قتل نہ ہو گا اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے موافق، تین بار یہی کہا۔ پھر ابوموسیٰ نے حکم دیا وہ قتل کیا گیا بعد اس کے دونوں نے شب بیداری کا ذکر کیا۔ معاذ نے کہا: میں تو سوتا بھی ہوں اور عبادت بھی کرتا ہوں رات کو اور مجھے امید ہے کہ سونے میں بھی مجھ کو وہی ثواب ملے گا جو عبادت میں ملتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں