حدیث ۴۷۱۹
صحیح مسلم : ۴۷۱۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۱۹
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ ابْنِ حُجَيْرَةَ الْأَكْبَرِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَسْتَعْمِلُنِي ، قَالَ : فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى مَنْكِبِي ثُمَّ ، قَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ : إِنَّكَ ضَعِيفٌ ، وَإِنَّهَا أَمَانَةُ وَإِنَّهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ خِزْيٌ وَنَدَامَةٌ ، إِلَّا مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا وَأَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ فِيهَا " .
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! آپ مجھے خدمت نہیں دیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک میرے مونڈھے پر مارا اور فرمایا: ”اے ابوذر! تو ناتواں ہے اور یہ امانت ہے (یعنی بندوں کے حقوق اور اللہ تعالیٰ کے حقوق سب حاکم کو ادا کرنے ہوتے ہیں) اور قیامت کے دن خدمت سے سوائے رسوائی اور شرمندگی کے کچھ حاصل نہیں مگر جو اس کے حق ادا کرے اور راستی سے کام لے۔“
