صحیح مسلم حدیث ۴۷۲۰ - یتیم کے مال اور فیصلے کی ذمہ داری
امانت کی حفاظت: یتیم کے مال اور فیصلے کی ذمہ داری
صحیح مسلم : ۴۷۲۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۲۰
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كلاهما ، عَنْ الْمُقْرِئِ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ الْقُرَشِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، إِنِّي أَرَاكَ ضَعِيفًا وَإِنِّي أُحِبُّ لَكَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِي لَا تَأَمَّرَنَّ عَلَى اثْنَيْنِ وَلَا تَوَلَّيَنَّ مَالَ يَتِيمٍ " .
ابوذر روایت:
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:“ ”اے ابوذر میں تجھ کو ناتوں پاتا ہوں اور میں تیرے لیے وہی پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں، مت حکم کر دو آدمیوں کے بیچ میں اور مت بندوبست کر یتیم کے مال کا۔“ (کیونکہ احتمال ہے کہ یتیم کا مال بیجا اٹھ جائے یا اپنی ضرورت میں آ جائے اور مؤاخذہ میں گرفتار ہو)۔
صحیح مسلم حدیث ۴۷۲۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ میں تمہیں کمزور پاتا ہوں، اور میں تمہارے لیے وہی پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں۔ پھر دو خاص ہدایات دیں: دو آدمیوں کے درمیان حکم نہ کرنا، اور یتیم کے مال کا بندوبست نہ سنبھالنا۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع ذمہ داری سے بچاؤ اور امانت ہے۔ یہاں بات عام عزت یا تقویٰ کی نہیں، بلکہ مخصوص انتظامی اور مالی ذمہ داری کی ہے۔ متن سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوذر رضی اللہ عنہ کے حق میں خیر خواہی کرتے ہوئے انہیں ایسی ذمہ داریوں سے روکا جن میں فیصلے اور مال کی حفاظت شامل ہے۔ اس لیے اس حدیث کو پڑھتے ہوئے نرم انداز رکھنا چاہیے: بعض کام بہت نازک ہوتے ہیں، اور ہر نیک آدمی ہر انتظامی ذمہ داری کے لیے موزوں نہیں ہوتا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فیصلہ کرنے کی ذمہ داری بہت نازک کام ہے۔
- یتیم کے مال کا بندوبست امانت کا معاملہ ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوذر رضی اللہ عنہ کے لیے خیر خواہی فرمائی۔
- ہر ذمہ داری ہر شخص کے لیے مناسب نہیں ہوتی۔
