صحیح مسلم حدیث ۴۸۲۹ - فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں
لا ہجرة بعد الفتح: جہاد، نیت اور حکم پر لبیک
صحیح مسلم : ۴۸۲۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۲۹
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ : " فَتْحِ مَكَّةَ لَا هِجْرَةَ ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا " .
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس دن مکہ فتح ہوا: ”اب ہجرت نہیں رہی لیکن جہاد ہے اور نیک نیت ہے اور جب تم سے کہا جائے جہاد کو نکلنے کے لیے تو تم نکلو جہاد کے لیے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۸۲۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع ہجرت ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں، لیکن جہاد اور نیت ہے، اور جب تم سے نکلنے کو کہا جائے تو نکلو۔ لا ہجرة بعد الفتح کی حدیث بہت مشہور ہے، مگر اس کے الفاظ کو اسی طرح سمجھنا چاہیے جیسے روایت میں آئے ہیں۔ یہاں ہجرت کے ایک خاص مرحلے کے ختم ہونے کا ذکر ہے، ساتھ ہی نیت، جہاد، اور حکم ملنے پر نکلنے کی بات ہے۔ حدیث کا انداز مختصر ہے، اس لیے اس میں اپنی طرف سے تفصیلات شامل کرنے کے بجائے اصل الفاظ پر رہنا بہتر ہے۔ یہ روایت بتاتی ہے کہ نیک نیت اور ذمہ داری کا جذبہ باقی رہتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فتح مکہ کے بعد ہجرت کی خاص صورت باقی نہ رہی۔
- حدیث میں جہاد اور نیت کے باقی رہنے کا ذکر ہے۔
- جب نکلنے کا حکم دیا جائے تو نکلنے کی بات فرمائی گئی۔
