صحیح مسلم حدیث ۴۸۳۱ - ہجرت کے سوال کا نبوی جواب

ہجرت کی حدیث: عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۳۱

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْهِجْرَةِ ، فَقَالَ : " لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ہجرت کا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکہ فتح ہونے بعد ہجرت نہیں رہی لیکن جہاد اور نیت ہے اور جب تم سے کہا جائے جہاد کو نکلنے کے لیے تو نکلو۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۸۳۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع ہجرت ہے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے بارے میں پوچھا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فتح کے بعد ہجرت نہیں، لیکن جہاد اور نیت ہے، اور جب تم سے نکلنے کو کہا جائے تو نکلو۔ یہ روایت لا ہجرة بعد الفتح کو ایک سوال کے جواب کی شکل میں پیش کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ اس مسئلے کو سمجھنا چاہتے تھے، اور جواب مختصر مگر واضح تھا۔ ہجرت کی حدیث میں نیت کا ذکر بھی ساتھ آیا ہے، اس لیے عمل کے ساتھ دل کے ارادے کی بات بھی سامنے رہتی ہے۔ تاہم متن سے بڑھ کر کوئی نئی تفصیل شامل کرنا درست نہیں، اصل پیغام یہی ہے جو حدیث نے بیان کیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سوال ہجرت کے بارے میں تھا اور جواب واضح دیا گیا۔
  • فتح کے بعد ہجرت نہیں، مگر جہاد اور نیت کا ذکر ہے۔
  • حکم ملنے پر نکلنے کی ذمہ داری بیان ہوئی۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں