صحیح مسلم حدیث ۴۸۳۲ - ہجرت کی مشکل اور عمل کی قدر
ہجرت بہت مشکل ہے: عمل جہاں بھی ہو قبولیت کی امید
صحیح مسلم : ۴۸۳۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۳۲
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْهِجْرَةِ ، فَقَالَ : " وَيْحَكَ ، إِنَّ شَأْنَ الْهِجْرَةِ لَشَدِيدٌ فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَهَلْ تُؤْتِي صَدَقَتَهَا ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ ، فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا " ،
ابو سعید خدری روایت:
ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ہجرت کا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ارے ہجرت بہت مشکل ہے (یعنی اپنا وطن چھوڑنا اور مدینہ میں میرے ساتھ رہنا۔ اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے فرمایا کہ کہیں اس سے نہ ہو سکے پھر ہجرت توڑنا پڑے) تیرے پاس اونٹ ہیں۔“ وہ بولا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ان کی زکوٰۃ دیتا ہے۔“ وہ بولا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو سمندروں کے اس پار سے عمل کرتا رہ اللہ تعالیٰ تیرے کسی عمل کو ضائع نہیں کرے گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۸۳۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع ہجرت اور عمل ہے۔ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہجرت کا معاملہ بہت سخت ہے، پھر اس سے اونٹوں کے بارے میں پوچھا اور یہ بھی پوچھا کہ کیا وہ ان کی زکوٰۃ دیتا ہے۔ جب اس نے ہاں کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سمندروں کے پار سے عمل کرتا رہ، اللہ تیرے کسی عمل کو ضائع نہیں کرے گا۔ ہجرت کی حدیث میں یہاں ایک نرم اور عملی انداز نظر آتا ہے۔ ہر شخص کے حالات ایک جیسے نہیں ہوتے، اس لیے سوال کرنے والے کو اس کے عمل اور زکوٰۃ کی طرف توجہ دلائی گئی۔ متن کا اصل پیغام یہ ہے کہ اپنی جگہ رہ کر بھی نیکی، زکوٰۃ، اور عمل کی قدر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ہجرت کو سخت معاملہ فرمایا۔
- اعرابی سے اونٹوں اور ان کی زکوٰۃ کے بارے میں پوچھا گیا۔
- اچھا عمل جہاں سے بھی ہو، اللہ اسے ضائع نہیں کرتا۔
