صحیح مسلم حدیث ۴۸۳۳ - زکوٰۃ اور عمل کی حفاظت
اونٹوں کی زکوٰۃ اور عمل: اللہ ضائع نہیں کرتا
صحیح مسلم : ۴۸۳۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۳۳
وحَدَّثَنَاه عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : إِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ ، قَالَ : فَهَلْ تَحْلُبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ .
وہی جو اوپر گزرا اس میں یہ ہے کہ اللہ تیرے کسی عمل کو نہیں ضائع کرے گا اور اتنا زیادہ ہے کہ تو ان کا دودھ دوہتا ہے جب وہ پانی پینے کو آتے ہیں؟ اس نے کہا: ہاں۔
صحیح مسلم حدیث ۴۸۳۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع عمل اور زکوٰۃ ہے۔ یہ وہی مضمون بیان کرتی ہے جو پچھلی روایت میں آیا تھا، مگر اس میں یہ اضافہ ہے کہ اللہ تیرے کسی عمل کو ضائع نہیں کرے گا، اور یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا تم اونٹوں کا دودھ دوہتے ہو جب وہ پانی پینے آتے ہیں؟ اس نے ہاں کہا۔ اس روایت میں ہجرت کے سوال کے ساتھ روزمرہ ذمہ داریوں کا ذکر بھی آتا ہے۔ اونٹوں کی زکوٰۃ، جانوروں کی دیکھ بھال، اور دور رہ کر عمل کرنے کی بات ایک ساتھ بیان ہوئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین صرف بڑے عنوانات تک محدود نہیں، بلکہ آدمی کے مال، جانور، زکوٰۃ اور معمول کے عمل سے بھی جڑا ہے۔ مگر ہمیں اسی قدر بات کرنی چاہیے جتنی حدیث کے متن میں آئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت پچھلی ہجرت والی حدیث کی تائید کرتی ہے۔
- اونٹوں کے دودھ دوہنے کا اضافی ذکر آیا ہے۔
- اللہ تعالیٰ عمل کو ضائع نہ کرنے کی بات حدیث میں آئی ہے۔
