صحیح مسلم حدیث ۴۸۴۱ - سفر میں قرآن لے جانے کی احتیاط
قرآن کی حفاظت: دشمن کے خطرے میں سفر کی اہم حدیث
صحیح مسلم : ۴۸۴۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۴۱
وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُسَافِرُوا بِالْقُرْآنِ ، فَإِنِّي لَا آمَنُ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ " ، قَالَ أَيُّوبُ : فَقَدْ نَالَهُ الْعَدُوُّ وَخَاصَمُوكُمْ بِهِ ،
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت لے جاؤ سفر میں قرآن شریف کو کیونکہ مجھے ڈر ہے دشمن کے ہاتھ میں پڑ جانے کا۔“ ایوب نے کہا: دشمن کے ہاتھ میں پڑ گیا اور وہ لوگ جھگڑا کرتے تم سے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۸۴۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل پیغام قرآن کی حفاظت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں قرآن شریف لے جانے سے منع فرمایا، جب یہ خوف ہو کہ وہ دشمن کے ہاتھ لگ جائے۔ یہاں بات عام سفر کی نہیں، بلکہ ایسے سفر کی ہے جہاں دشمن کے قبضے کا خطرہ ہو۔ حدیث کے الفاظ میں خوف کی وجہ صاف بیان ہوئی ہے کہ دشمن اسے پا لے۔ ایوب کے قول میں یہ بات بھی آئی کہ دشمن اسے پا کر مسلمانوں سے جھگڑا کر سکتا ہے۔ اس لیے نیت یہ ہے کہ قرآن مجید کی حرمت باقی رہے اور اسے ایسی حالت میں نہ رکھا جائے جہاں بے ادبی یا جھگڑے کا اندیشہ ہو۔ یہ حدیث قرآن کی عزت، قرآن کی حفاظت، سفر میں قرآن لے جانے کا حکم، اور دشمن کے خطرے سے متعلق ایک واضح رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن مجید کی عزت اور حفاظت کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔
- ایسے سفر میں احتیاط ضروری ہے جہاں دشمن کے ہاتھ لگنے کا خطرہ ہو۔
- دینی چیزوں کو ایسی جگہ لے جانا مناسب نہیں جہاں بے ادبی کا اندیشہ ہو۔
- حدیث میں منع کی وجہ خوف اور حفاظت کے طور پر بیان ہوئی ہے۔
