صحیح مسلم حدیث ۴۸۴۰ - قرآن دشمن کے ہاتھ لگنے کا خوف

قرآن کی حفاظت: دشمن کے ہاتھ لگنے کا اندیشہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۴۰

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ كَانَ " يَنْهَى أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منع کرتے تھے قرآن کو سفر میں دشمن کے ملک میں لے جانے سے اس ڈر سے کہ کہیں دشمن کے ہاتھ نہ لگ جائے۔

صحیح مسلم حدیث ۴۸۴۰ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع قرآن کی حفاظت ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں قرآن کو دشمن کے ملک لے جانے سے منع کرتے تھے، اس ڈر سے کہ کہیں دشمن کے ہاتھ نہ لگ جائے۔ یہ روایت پچھلی حدیث کی وجہ کو مزید واضح کر دیتی ہے۔ قرآن کی حفاظت، قرآن کا ادب، اور دشمن کے علاقے میں مصحف لے جانے کی ممانعت اسی متن کے اہم الفاظ ہیں۔ یہاں مقصد سفر کو عام طور پر روکنا نہیں، بلکہ اس خاص صورت کا ذکر ہے جس میں قرآن دشمن کے ہاتھ لگنے کا خطرہ ہو۔ اس لیے حدیث کو سمجھتے وقت اسی خطرے اور احتیاط کو سامنے رکھنا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی میں قرآن کی عظمت کے ساتھ عملی حفاظت بھی شامل ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • منع کی وجہ دشمن کے ہاتھ لگنے کا خوف بتایا گیا۔
  • قرآن کے ادب کے ساتھ اس کی عملی حفاظت بھی ضروری ہے۔
  • حدیث خاص خطرے والی صورت کو بیان کرتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں