صحیح مسلم حدیث ۴۸۴۲ - دشمن کے خوف سے قرآن کی حفاظت

قرآن کی حفاظت اور دشمن کے خوف سے احتیاط

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۴۲

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَالثَّقَفِيُّ كُلُّهُمْ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ جَمِيعًا ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَالثَّقَفِيِّ فَإِنِّي أَخَافُ ، وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ وَحَدِيثِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ .

ابن عمر روایت:

ابن علیہ اور ثقفی کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں خوف کرتا ہوں۔“ اور دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ”دشمن کے ہاتھ لگ جانے کے خوف سے۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۸۴۲ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلی حدیث کے معنی کو مزید صاف کرتی ہے۔ اس میں الفاظ آئے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے خوف ہے، اور دوسری روایت میں صاف ہے کہ دشمن کے ہاتھ لگ جانے کے خوف سے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکم کی بنیاد دشمن کا خطرہ ہے۔ یہاں قرآن مجید کی حفاظت، قرآن کا احترام، اور سفر میں احتیاط اصل موضوع ہے۔ حدیث ہمیں یہ نہیں کہتی کہ ہر سفر میں قرآن ساتھ رکھنا منع ہے، بلکہ متن کے اندر وجہ دشمن کے ہاتھ لگنے کا خوف بتائی گئی ہے۔ اس لیے اس حدیث کو سمجھتے وقت اسی وجہ کو سامنے رکھنا چاہیے۔ عام فہم انداز میں بات یہ ہے کہ جس چیز کی حرمت سب سے بڑھ کر ہے، اسے خطرے والی جگہ لے جانے میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث میں منع کی اصل وجہ دشمن کے ہاتھ لگنے کا خوف ہے۔
  • قرآن کی حفاظت کو سفر کے فیصلوں میں مقدم رکھنا چاہیے۔
  • دینی حکم کو اس کی بیان کردہ وجہ کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
  • خطرے والی حالت میں احتیاط کرنا دین کی سمجھ داری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں