صحیح مسلم حدیث ۴۸۴۳ - گھوڑوں کی دوڑ اور تیاری
گھڑ دوڑ کی حدیث: تیار اور غیر تیار گھوڑوں کا فرق
صحیح مسلم : ۴۸۴۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۴۳
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سَابَقَ بِالْخَيْلِ الَّتِي قَدْ أُضْمِرَتْ مِنَ الْحَفْيَاءِ ، وَكَانَ أَمَدُهَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ ، وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضْمَرْ مِنَ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ فِيمَنْ سَابَقَ بِهَا .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوڑ کی ان گھوڑوں کی جو تیار کیے گئے تھے حفیا سے ثنیہ الوداع تک (ان دونوں مقاموں میں پانچ یا چھ میل کا فاصلہ ہے اور بعض نے کہا: چھ یا سات میل کا) اور جو تیار نہیں کیے گئے تھے ان کی دوڑ ثنیتہ سے بنی رزیق کی مسجد تک مقرر کی اور ابن عمر رضی اللہ عنہما ان لوگوں میں تھے جنہوں نے دوڑ کی۔
صحیح مسلم حدیث ۴۸۴۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں گھوڑوں کی دوڑ کا ذکر ہے۔ تیار کیے گئے گھوڑوں کی دوڑ حفیا سے ثنیہ الوداع تک رکھی گئی، جبکہ جو گھوڑے تیار نہیں کیے گئے تھے ان کی دوڑ ثنیہ سے بنی رزیق کی مسجد تک مقرر ہوئی۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مقابلے میں گھوڑوں کی حالت اور تیاری کا فرق دیکھا گیا۔ یہ روایت گھڑ دوڑ، گھوڑوں کی تربیت، مقابلے کے اصول، اور مناسب فاصلے کے انتخاب سے متعلق ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے اس دوڑ میں حصہ لیا۔ حدیث کے متن سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ مقابلہ بے ترتیب نہیں تھا، بلکہ ہر قسم کے گھوڑوں کے لیے الگ فاصلہ رکھا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مقابلے میں شریک چیزوں کی تیاری اور صلاحیت کا خیال رکھا گیا۔
- تیار اور غیر تیار گھوڑوں کے لیے الگ الگ فاصلہ مقرر ہوا۔
- منظم مقابلہ اور واضح حد مقرر کرنا ایک درست طریقہ ہے۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم نے جائز مقابلوں میں حصہ لیا۔
