صحیح مسلم حدیث ۴۸۴۴ - گھڑ دوڑ میں ابن عمر رضی اللہ عنہ
گھڑ دوڑ میں شرکت: ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت
صحیح مسلم : ۴۸۴۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۴۴
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَي وَهُوَ الْقَطَّانُ جميعا ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ كُلُّ هَؤُلَاءِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ أَيُّوبَ مِنْ رِوَايَةِ حَمَّادٍ ، وَابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَجِئْتُ سَابِقًا فَطَفَّفَ بِي الْفَرَسُ الْمَسْجِدَ .
مختلف اسناد سے یہ حدیث اسی طرح مروی ہے صرف ایک روایت میں ہے کہ عبداللہ نے کہا میں آگے آیا تو گھوڑا مجھے لے کر مسجد میں جا پہنچا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۸۴۴ کا خلاصہ
اس روایت میں پچھلے واقعے کو مختلف سندوں سے بیان کیا گیا ہے۔ اصل بات وہی ہے کہ گھوڑوں کی دوڑ ہوئی، تیار گھوڑوں اور غیر تیار گھوڑوں کے لیے الگ راستہ اور حد مقرر تھی۔ ایک روایت میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا اپنا بیان بھی آیا کہ میں آگے آیا تو گھوڑا مجھے لے کر مسجد میں جا پہنچا۔ یہ جملہ واقعے کی عملی صورت بتاتا ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم اس دوڑ میں شریک تھے۔ اس حدیث میں گھڑ دوڑ، گھوڑوں کی تیاری، مقابلے کی حد، اور شرکت کا ذکر ہے۔ اس سے ہمیں صرف اتنا سبق لینا چاہیے جو متن میں ہے: مقابلہ واضح تھا، راستہ مقرر تھا، اور شریک افراد معلوم تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں منظم گھڑ دوڑ کے واقعے کی تائید آتی ہے۔
- ابن عمر رضی اللہ عنہما اس مقابلے میں شریک تھے۔
- مقابلے کے لیے راستہ اور اختتام پہلے سے مقرر تھا۔
- واقعہ بیان کرتے وقت روایت کے الفاظ کے اندر رہنا ضروری ہے۔
