صحیح مسلم حدیث ۴۹۰۸ - مجاہد کے گھر والوں میں خیانت کی وعید
مجاہد کے گھر والوں میں خیانت: امانت کی سخت حدیث
صحیح مسلم : ۴۹۰۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۰۸
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حُرْمَةُ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ ، كَحُرْمَةِ أُمَّهَاتِهِمْ ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْقَاعِدِينَ يَخْلُفُ رَجُلًا مِنَ الْمُجَاهِدِينَ فِي أَهْلِهِ ، فَيَخُونُهُ فِيهِمْ إِلَّا وُقِفَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيَأْخُذُ مِنْ عَمَلِهِ مَا شَاءَ ، فَمَا ظَنُّكُمْ ؟ " .
بریدہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”مجاہدین کی عورتوں کی حرمت گھر میں رہنے والوں پر ایسی ہے جیسے ان کی ماؤں کی حرمت اور جو شخص گھر میں رہ کر کسی مجاہد کے گھر بار کی خبر گیری رکھے پھر اس میں خیانت کرے تو وہ قیامت کے دن کھڑا کیا جائے گا اور مجاہد سے کہا جائے گا کہ اس کے عمل میں سے جو چاہے وہ لے لے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۹۰۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سخت تنبیہ فرمائی۔ مجاہدین کی عورتوں کی حرمت گھر میں رہنے والوں پر ان کی ماؤں کی حرمت جیسی بتائی گئی۔ پھر فرمایا کہ جو شخص کسی مجاہد کے گھر بار کی خبر گیری کرے اور اس میں خیانت کرے، اسے قیامت کے دن کھڑا کیا جائے گا، اور مجاہد سے کہا جائے گا کہ اس کے عمل میں سے جو چاہے لے لے۔ اس حدیث کا اصل موضوع امانت، پاکیزہ رویہ، اور خیانت سے بچنا ہے۔ جب کوئی شخص کسی کے گھر والوں کی ذمہ داری لیتا ہے تو یہ اعتماد کا معاملہ ہوتا ہے۔ اس میں بے وفائی، دھوکا یا غلط فائدہ اٹھانا بہت سنگین بات ہے۔ حدیث میں مجاہد کے گھر والوں کی حرمت اور خیانت کی سزا کے الفاظ صاف آئے ہیں، اس لیے بات کو انہی الفاظ تک رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مجاہد کے گھر والوں کے معاملے میں بہت زیادہ احتیاط لازم ہے۔
- کسی کی امانت میں خیانت سخت گناہ کا سبب بن سکتی ہے۔
- خبر گیری کا مطلب خیر خواہی ہے، غلط فائدہ اٹھانا نہیں۔
- قیامت کی جواب دہی کا احساس انسان کو خیانت سے روکتا ہے۔
