صحیح مسلم حدیث ۴۹۰۹ - خیانت سے بچنے کی تنبیہ
مجاہد کے اہل خانہ کی امانت میں خیانت سے بچو
صحیح مسلم : ۴۹۰۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۰۹
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَال يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ ،
علقمہ بن مرثد ابن بریدہ رضی اللہ عنہ وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ باقی حدیث اسی طرح ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۹۰۹ کا خلاصہ
یہ روایت علقمہ بن مرثد، ابن بریدہ رضی اللہ عنہ اور ان کے والد کے واسطے سے اسی معنی میں آئی ہے جو پچھلی حدیث میں بیان ہوا۔ اس میں اصل پیغام یہ ہے کہ مجاہد کے گھر والوں کی خبر گیری ایک نیک ذمہ داری ہے، مگر اس میں خیانت کرنا بہت خطرناک معاملہ ہے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اعتماد کی حفاظت دین کا اہم حصہ ہے، خاص طور پر اس وقت جب کوئی شخص اپنے گھر والوں کو کسی کے بھروسے چھوڑ کر اللہ کی راہ میں گیا ہو۔ اس روایت کا مقصد یہ احساس پیدا کرنا ہے کہ کسی کے گھر، مال اور اہل خانہ سے متعلق ذمہ داری کو معمولی نہ سمجھا جائے۔ امانت، خیانت سے بچنا، مجاہد کے گھر والوں کی حرمت، اور قیامت کی جواب دہی اس حدیث کے اہم موضوعات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت امانت کی حفاظت پر زور دیتی ہے۔
- مجاہد کے گھر والوں کی ذمہ داری میں خیانت سخت خطرے کی بات ہے۔
- اعتماد کو توڑنا آخرت کی جواب دہی کا سبب بن سکتا ہے۔
- حدیث کو اسی معنی کے ساتھ پچھلی روایت سے جوڑ کر سمجھا جائے۔
