صحیح مسلم حدیث ۴۹۱۰ - نیکیوں میں سے لینے کی وعید
خیانت کرنے والے کی نیکیاں: قیامت کی سخت یاد دہانی
صحیح مسلم : ۴۹۱۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۱۰
وحَدَّثَنَاه سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ قَعْنَبٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، فَقَالَ : فَخُذْ مِنْ حَسَنَاتِهِ مَا شِئْتَ ، فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : فَمَا ظَنُّكُمْ .
علقمہ بن مرثد روایت:
علقمہ بن مرثد سے اس سند کے ساتھ بھی یہ روایت مروی ہے اور اس میں یہ ہے کہ مجاہد سے کہا جائے گا: ”تو اس کی نیکیوں میں سے جو چاہے لے لے۔“ یہ فرما کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف دیکھا اور فرمایا: ”پھر تم کیا خیال کرتے ہو؟“ (یعنی وہ مجاہد کوئی نیکی چھوڑنے والا ہے نہیں سب لے لے گا)۔
صحیح مسلم حدیث ۴۹۱۰ کا خلاصہ
اس روایت میں پچھلے مضمون کو اور واضح لفظوں میں بیان کیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجاہد سے کہا جائے گا کہ تو اس شخص کی نیکیوں میں سے جو چاہے لے لے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ پھر تم کیا خیال کرتے ہو؟ اس انداز سے حدیث کی سختی اور زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ بات صرف دنیا کی بدنامی تک نہیں، بلکہ آخرت کی نیکیوں کے نقصان تک پہنچتی ہے۔ اس حدیث کا اصل سبق یہ ہے کہ مجاہد کے گھر بار کی ذمہ داری لیتے وقت امانت داری لازم ہے۔ خیانت، دھوکا، یا غلط نیت انسان کے عمل کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس حدیث کو خیانت کی سزا، نیکیوں کا نقصان، اور قیامت کی جواب دہی کے عنوان سے پڑھا جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خیانت آخرت میں نیکیوں کے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
- مجاہد کے گھر والوں کی ذمہ داری بہت سنجیدہ امانت ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو اس معاملے کی سختی سمجھائی۔
- اعتماد ملے تو اسے خیر اور امانت کے ساتھ پورا کرنا چاہیے۔
