صحیح مسلم حدیث ۴۹۱۱ - معذور اہل ایمان کا عذر
معذور اہل ایمان کا عذر: غیر اولی الضرر کی حدیث
صحیح مسلم : ۴۹۱۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۱۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ : فِي هَذِهِ الْآيَةِ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95 وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا ، فَجَاءَ بِكَتِفٍ يَكْتُبُهَا ، فَشَكَا إِلَيْهِ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ضَرَارَتَهُ ، فَنَزَلَتْ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95 ، قَالَ شُعْبَةُ : وَأَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فِي هَذِهِ الْآيَةِ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95 ، بِمِثْلِ حَدِيثِ الْبَرَاءِ ، وقَالَ ابْنُ بَشَّار فِي رِوَايَتِهِ سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ .
براء روایت:
یہ آیت «لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ» (۴-النسآء:۹۵) کے باب میں (یعنی برابر نہیں ہیں گھر بیٹھنے والے مسلمان اور لڑنے والے مسلمان یعنی لڑنے والوں کا درجہ بہت بڑا ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا زید کو وہ ایک ہڈی لے کر آئے اور اس پر یہ آیت لکھی، تب عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے شکایت کی اپنی نابینائی کی (یعنی میں اندھا ہوں اس لیے جہاد میں نہیں جا سکتا تو میرا درجہ گھٹا رہے گا) اس وقت «غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ» (۴-النسآء:۹۵) کا لفظ اترا یعنی وہ لوگ جو معذور نہیں ہیں اور معذور تو درجہ میں مجاہدین کے برابر ہوں گے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۹۱۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا براء رضی اللہ عنہ آیت لا يستوي القاعدون من المؤمنين کے بارے میں بیان کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ آیت لکھیں۔ اسی وقت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے اپنی نابینائی کا عذر پیش کیا۔ پھر آیت میں غیر اولی الضرر کے الفاظ نازل ہوئے، یعنی جو لوگ معذور نہیں ہیں۔ اس حدیث کا اصل موضوع یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے عذر کو جانتا ہے۔ جو شخص واقعی معذور ہو، اسے اس شخص کی طرح نہیں سمجھا جاتا جو بغیر عذر کے بیٹھا رہے۔ یہاں جہاد، معذوری، عذر، اور آیت نساء 95 کا ذکر ہے۔ اس حدیث سے ہمیں بات کرتے وقت انصاف، عذر کی رعایت، اور اللہ کی رحمت کا پہلو سمجھ آتا ہے، مگر اسے متن سے آگے بڑھا کر عام دعووں میں نہیں بدلنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حقیقی معذوری کو الگ حیثیت دی گئی ہے۔
- اللہ تعالیٰ بندوں کے عذر کو جانتا ہے۔
- دینی ذمہ داریوں میں عذر کا خیال رکھا جاتا ہے۔
- بغیر عذر بیٹھنے والے اور معذور شخص کا معاملہ ایک جیسا نہیں۔
