صحیح مسلم حدیث ۴۹۲۰ - اللہ کے کلمے کے لیے لڑنا
اللہ کا کلمہ بلند کرنے کی نیت: فی سبیل اللہ کی حدیث
صحیح مسلم : ۴۹۲۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۲۰
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَال إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُقَاتِلُ شَجَاعَةً ، وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً ، وَيُقَاتِلُ رِيَاءً ، أَيُّ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
ابوموسیٰ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا اس شخص کے بارے میں جو لڑتا ہے بہادری دکھلانے کو یا اپنی قوم اور کنبے کی عزت کے لیے یا لڑتا نمائش کے لیے، کون سا لڑنا اللہ کی راہ میں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اس لیے لڑے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو وہ اللہ کی راہ میں ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۹۲۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کوئی شخص بہادری دکھانے کے لیے لڑتا ہے، کوئی قوم یا خاندان کی حمایت کے لیے، اور کوئی دکھاوے کے لیے، تو ان میں کون سا لڑنا اللہ کی راہ میں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ جو شخص اس لیے لڑے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو، وہ اللہ کی راہ میں ہے۔ یہ حدیث نیت کی اصلاح کے لیے بہت صاف معیار دیتی ہے۔ صرف بہادر نظر آنا، لوگوں سے تعریف لینا، یا خاندانی جوش دکھانا اصل مقصد نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ مقصد اللہ کا دین اور اس کا کلمہ ہو۔ اس حدیث میں ریا، حمیت، شجاعت اور فی سبیل اللہ کے فرق کو مختصر مگر واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اس لیے اسے اللہ کی راہ میں لڑنے کی نیت والی حدیث کے طور پر تلاش کیا جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نیت درست نہ ہو تو ظاہری بہادری کافی نہیں۔
- دکھاوے کے لیے لڑنا فی سبیل اللہ نہیں بتایا گیا۔
- اللہ کا کلمہ بلند کرنا اصل معیار ہے۔
- انسان کو اپنے مقصد کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے۔
