صحیح مسلم حدیث ۴۹۲۱ - شجاعت نہیں، نیت اصل ہے

فی سبیل اللہ جہاد کی حدیث: شجاعت کے پیچھے اصل نیت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۲۱

وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ : أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الرَّجُلُ يُقَاتِلُ مِنَّا شَجَاعَةً فَذَكَرَ مِثْلَهُ .

ابوموسیٰ اشعری روایت:

ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے ایک آدمی شجاعت دکھانے کے لیے لڑتا ہے پھر اسی طرح حدیث ذکر کی۔

صحیح مسلم حدیث ۴۹۲۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور پوچھا کہ ہم میں سے ایک شخص شجاعت دکھانے کے لیے لڑتا ہے۔ روایت میں بتایا گیا کہ پھر اسی طرح حدیث ذکر کی گئی۔ اس سے اصل بات یہ سمجھ آتی ہے کہ صرف بہادری دکھانا یا لوگوں کے سامنے دلیر بننا اصل مقصد نہیں بنتا۔ فی سبیل اللہ جہاد کی حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ عمل کے پیچھے نیت دیکھی جاتی ہے۔ اگر مقصد اللہ کی رضا اور اللہ کے دین کی سربلندی ہو تو عمل کی قدر الگ ہوتی ہے۔ اس لیے مسلمان کو اپنے بڑے کاموں میں بھی دل کا مقصد صاف رکھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • شجاعت دکھانے کا جذبہ اکیلا کافی نہیں، نیت کا جائزہ ضروری ہے۔
  • دینی کام میں اصل مقصد اللہ کی رضا ہونا چاہیے۔
  • کسی عمل کا ظاہری رنگ اچھا ہو، پھر بھی نیت اہم رہتی ہے۔
  • سوال کر کے دین کی بات سمجھنا صحابہ کا طریقہ تھا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں