صحیح مسلم حدیث ۴۹۲۲ - اللہ کا کلمہ بلند کرنے والی لڑائی
فی سبیل اللہ جہاد کی اصل پہچان: اللہ کا کلمہ بلند ہو
صحیح مسلم : ۴۹۲۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۲۲
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقِتَالِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَقَالَ : الرَّجُلُ يُقَاتِلُ غَضَبًا ، وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً ، قَالَ : فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ ، وَمَا رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ قَائِمًا ، فَقَالَ : " مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
ابوموسیٰ اشعری روایت:
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اللہ کی راہ میں لڑائی کون سی ہے؟ تو کہا کہ آدمی لڑتا ہے غصہ سے اور لڑتا ہے اپنی قوم کی طرفداری میں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور اس وجہ سے اٹھایا کہ وہ کھڑا تھا (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لڑے اس لیے کہ اللہ کا کلمہ غالب ہو (یعنی توحید غالب ہو شرک پر اور شرک اور کفر مٹے) تو وہ لڑائی اللہ کی راہ میں ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۹۲۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ کی راہ میں لڑائی کون سی ہے۔ سوال میں دو صورتیں آئیں: کوئی غصے کی وجہ سے لڑتا ہے اور کوئی اپنی قوم کی طرفداری میں لڑتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ جو شخص اس لیے لڑے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو، وہی اللہ کی راہ میں ہے۔ اس حدیث کا اصل موضوع فی سبیل اللہ جہاد کی نیت ہے۔ یہاں غصہ، قومی حمیت یا ذاتی جوش کو معیار نہیں بنایا گیا۔ معیار یہ بتایا گیا کہ مقصد اللہ کے کلمے کی سربلندی ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دینی عمل میں نیت اور مقصد بہت اہم ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غصے کی بنیاد پر لڑنا خود بخود فی سبیل اللہ نہیں کہلاتا۔
- قوم کی طرفداری اصل دینی معیار نہیں بنتی۔
- اللہ کے کلمے کی سربلندی کو مقصد بنانا اس حدیث کا مرکزی پیغام ہے۔
- عمل کی قیمت اس کے مقصد سے جڑی ہوتی ہے۔
