حدیث ۴۹۲۳

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۲۳

حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ لَهُ نَاتِلُ : أَهْلِ الشَّامِ أَيُّهَا الشَّيْخُ ، حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : نَعَمْ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ يُقْضَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا ، قَالَ : فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا ؟ ، قَالَ : قَاتَلْتُ فِيكَ حَتَّى اسْتُشْهِدْتُ ، قَالَ : كَذَبْتَ ، وَلَكِنَّكَ قَاتَلْتَ لِأَنْ يُقَالَ جَرِيءٌ ، فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ ، وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَهُ وَقَرَأَ الْقُرْآنَ ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا ، قَالَ : فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا ؟ ، قَالَ : تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُهُ وَقَرَأْتُ فِيكَ الْقُرْآنَ ، قَالَ : كَذَبْتَ ، وَلَكِنَّكَ تَعَلَّمْتَ الْعِلْمَ لِيُقَالَ عَالِمٌ وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ هُوَ قَارِئٌ ، فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ ، وَرَجُلٌ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَعْطَاهُ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ كُلِّهِ ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا ، قَالَ : فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا ؟ ، قَالَ : مَا تَرَكْتُ مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ أَنْ يُنْفَقَ فِيهَا إِلَّا أَنْفَقْتُ فِيهَا لَكَ ، قَالَ : كَذَبْتَ ، وَلَكِنَّكَ فَعَلْتَ لِيُقَالَ هُوَ جَوَادٌ ، فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّارِ " ،

‏‏‏‏ سیدنا سلیمان بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، لوگ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے جدا ہوئے تو ناتل نے کہا جو شام والوں میں سے تھا (ناتل بن قیس خرامی۔ یہ فلسطین کا رہنے والا تھا اور یہ تابعی ہے اس کا باپ صحابی تھا) اے شیخ! مجھ سے ایک حدیث بیان کر جو تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اچھا، میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”پہلے قیامت میں جس کا فیصلہ ہو گا وہ ایک شخص ہو گا۔ جو شہید ہوا۔ جب اس کو اللہ کے پاس لائیں گے تو اللہ اپنی نعمت اس کو بتلا دے گا وہ پہچانے گا، اللہ تعالیٰ پوچھے گا: تو نے اس کے لیے کیا عمل کیا ہے؟ وہ بولے گا: میں لڑا تیری راہ میں یہاں تک کہ شہید ہوا۔ اللہ تعالیٰ فرما دے گا: تو نے جھوٹ کہا تو اس لڑا تھا اس لیے کہ لوگ بہادر کہیں اور تجھے بہادر کہا گیا، پھر حکم ہو گا اس کو اوندھے منہ گھسیٹتے ہوئے جہنم میں ڈال دیں گے۔ اور ایک شخص ہو گا جس نے دین کا علم سیکھا اور سکھلایا اور قرآن پڑھا۔ اس کو اللہ تعالیٰ کے پاس لائیں گے وہ اپنی نعمتیں دکھلائے گا وہ شخص پہچان لے گا تب کہا جائے گا تو نے اس کے لیے عمل کیا ہے؟ وہ کہے گا: میں نے علم پڑھا اور پڑھایا اور قرآن پڑھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹ بولتا ہے تو نے اس لیے علم پڑھا تھا کہ لوگ تجھے عالم کہیں اور قرآن اس لیے پڑھا تھا کہ لوگ قاری کہیں تجھ کو عالم اور قاری دنیا میں کہا گیا پھر حکم ہو گا، اس کو منہ کے بل گھسیٹتے ہوئے جہنم میں ڈال دیں گے۔ اور ایک شخص ہو گا جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا تھا اور سب طرح کے مال دیئے تھے وہ اللہ تعالیٰ کے پاس لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس کو اپنی نعمتیں دکھلائے گا وہ پہچان لے گا اللہ تعالیٰ پوچھے گا: تو نے اس کے لیے کیا عمل کیے وہ کہے گا: میں نے کوئی راہ مال خرچنے کی جس میں خرچ کرنا پسند کرتا تھا نہیں چھوڑی تیرے واسطے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹا ہے تو نے اس لیے خرچا کہ لوگ سخی کہیں تو تجھے لوگوں نے سخی کہہ دیا دنیا میں، پھر حکم ہو گا، منہ کے بل کھینچ کر جہنم میں ڈال دیں گے۔“

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں