صحیح مسلم حدیث ۴۹۲۴ - نیک عمل میں دکھاوے سے بچیں

اخلاص نیت کی حدیث: عمل اللہ کے لیے ہو، لوگوں کے لیے نہیں

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۲۴

وحَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : تَفَرَّجَ النَّاسُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ لَهُ نَاتِلٌ الشَّامِيُّ : ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ .

سلیمان بن یسار روایت:

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے جب لوگ جدا ہو گئے تو ان سے ناتل نامی، شامی نے کہا۔ باقی حدیث خالد بن حارث کی حدیث کی طرح ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۴۹۲۴ کا خلاصہ

اس روایت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ناتل شامی کے سوال کا ذکر ہے، پھر بتایا گیا کہ باقی حدیث خالد بن حارث کی روایت کی طرح ہے۔ اس لیے اس کا اصل مضمون وہی ہے کہ بڑے نیک کام بھی اس وقت خطرے میں پڑ جاتے ہیں جب ان کا مقصد اللہ کی رضا کے بجائے لوگوں کی تعریف ہو۔ شہادت، علم، قرآن پڑھنا اور مال خرچ کرنا سب بہت بڑے کام ہیں، مگر حدیث میں ان کے بارے میں نیت کا سوال سامنے رکھا گیا۔ ریاکاری کی حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دل کی نیت کو بار بار دیکھنا چاہیے۔ انسان لوگوں کے سامنے اچھا بن سکتا ہے، مگر اللہ کے سامنے اصل بات نیت ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دینی کام کرتے وقت مقصد اللہ کی رضا ہونا چاہیے۔
  • لوگوں سے نام کمانا نیک عمل کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
  • علم اور قرآن میں بھی اخلاص کی ضرورت ہے۔
  • مال خرچ کرنے میں بھی دکھاوا مقصد نہیں ہونا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں