صحیح مسلم حدیث ۴۹۲۵ - غنیمت اور آخرت کے اجر کا بیان

غنیمت کی حدیث: دنیا کا حصہ اور آخرت کا اجر

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۲۵

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْد ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِي هَانِئٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ غَازِيَةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَيُصِيبُونَ الْغَنِيمَةَ إِلَّا تَعَجَّلُوا ثُلُثَيْ أَجْرِهِمْ مِنَ الْآخِرَةِ وَيَبْقَى لَهُمُ الثُّلُثُ ، وَإِنْ لَمْ يُصِيبُوا غَنِيمَةً تَمَّ لَهُمْ أَجْرُهُمْ " .

عبداللہ بن عمرو روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لشکر لڑے اللہ کی راہ میں اور لوٹ کا مال کمائے اس کو دو حصے ثواب کے دنیا میں مل گئے۔ اب آخرت میں ایک ہی حصہ ملے گا اور جو لوٹ نہ کمائے تو پورا ثواب آخرت میں ملے گا۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۹۲۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی راہ میں لڑنے والے لشکر کے بارے میں فرمایا کہ اگر وہ غنیمت حاصل کریں تو ان کے اجر کے دو حصے دنیا ہی میں جلدی مل گئے، اور آخرت میں ایک حصہ باقی رہتا ہے۔ اور اگر غنیمت نہ ملے تو آخرت میں پورا اجر ملتا ہے۔ اس حدیث کا موضوع غنیمت اور اجر ہے۔ یہاں متن میں اجر کے فرق کو بیان کیا گیا ہے، اس لیے بات کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں ملنے والی کامیابی اور آخرت کے اجر کے درمیان ایک تعلق ہے۔ مسلمان کو دینی عمل میں دنیاوی فائدے کو اصل مقصد نہیں بنانا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • غنیمت ملنے کی صورت میں دنیا کا حصہ مل جاتا ہے۔
  • غنیمت نہ ملے تو حدیث کے مطابق آخرت کا پورا اجر باقی رہتا ہے۔
  • دینی عمل میں آخرت کے اجر کو اہم سمجھنا چاہیے۔
  • دنیاوی فائدہ اصل مقصد نہ بنے، یہ نیت کے لیے بہتر ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں