صحیح مسلم حدیث ۴۹۲۶ - سلامت واپسی، غنیمت اور اجر
غنیمت اور اجر کی حدیث: کامیابی، نقصان اور آخرت
صحیح مسلم : ۴۹۲۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۲۶
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ غَازِيَةٍ أَوْ سَرِيَّةٍ تَغْزُو ، فَتَغْنَمُ وَتَسْلَمُ إِلَّا كَانُوا قَدْ تَعَجَّلُوا ثُلُثَيْ أُجُورِهِمْ ، وَمَا مِنْ غَازِيَةٍ أَوْ سَرِيَّةٍ تُخْفِقُ وَتُصَابُ إِلَّا تَمَّ أُجُورُهُمْ " .
عبداللہ بن عمرو روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی لشکر یا فوج کا ٹکڑا جہاد کرے پھر غنیمت حاصل کرے اور سلامت رہے تو اس کو آخرت کے ثواب میں سے دو حصہ دنیا میں مل گئے اور جو لشکر یا فوج کا ٹکڑا خالی ہاتھ آئے اور نقصان اٹھائے (یعنی زخمی ہو یا مارا جائے) تو اس کو آخرت میں پورا ثواب ملے گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۹۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی لشکر یا فوجی ٹکڑا جہاد کرے، پھر غنیمت حاصل کرے اور سلامت رہے، تو انہوں نے اپنے اجر کے دو حصے جلدی پا لیے۔ اور جو لشکر خالی ہاتھ آئے اور اسے نقصان پہنچے تو اس کے اجر پورے ہو جاتے ہیں۔ اس حدیث میں دو حالتیں صاف بیان ہوئی ہیں: ایک غنیمت اور سلامتی، دوسری ناکامی یا نقصان۔ اس کا مقصد یہ سمجھانا ہے کہ اللہ کی راہ میں عمل کا اجر صرف ظاہری کامیابی سے نہیں جڑا۔ غنیمت ملنا دنیا کا حصہ ہے، جبکہ نقصان اٹھانے والے کے لیے حدیث میں آخرت کے پورے اجر کا ذکر ہے۔ اس لیے نیت اور صبر دونوں اہم ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غنیمت اور سلامتی دنیا میں ملنے والا حصہ ہو سکتے ہیں۔
- نقصان اٹھانے والوں کے اجر کے بارے میں حدیث میں تسلی ہے۔
- ظاہری کامیابی ہی اجر کا واحد معیار نہیں۔
- دینی عمل میں نیت اور صبر کو ساتھ رکھنا چاہیے۔
